آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کے لیے جنوبی کوریا کا خصوصی مشن، گشتی طیارے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ بھیجے گا
جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق سمندری گشتی طیاروں اور بم ناکارہ بنانے کے ماہرین کو آبنائے ہرمز کے آس پاس کے سمندری علاقے میں تعینات کیا جائے گا۔
جنوبی کوریا نے اسٹریٹجک اعتبار سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کے آس پاس سمندری سلامتی کے حوالے سے ایک بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کی ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ وہ اس علاقے میں سمندری گشتی طیارے (میری ٹائم پیٹرول ایئرکرافٹ) تعینات کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ماہر ٹیم یعنی ایکسپلوسیو آرڈیننس ڈسپوزل (ای او ڈی) ٹیم بھی بھیجی جائے گی۔ یہ تعیناتی ایک خصوصی مشن کے تحت کی جائے گی، جس کا مقصد اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
BREAKING South Korea's defence ministry says it will deploy maritime patrol aircraft and an explosive ordnance disposal team to waters near the Strait of Hormuz as part of a mission to help keep the strategic waterway open pic.twitter.com/RtDLwU0BWy
— AFP News Agency (@AFP) November 5, 2026
جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق سمندری گشتی طیاروں اور بم ناکارہ بنانے کے ماہرین کو آبنائے ہرمز کے آس پاس کے سمندری علاقے میں تعینات کیا جائے گا۔ اس مشن کے ذریعے سمندری راستے کی حفاظت یقینی بنانے میں تعاون کیا جائے گا۔ سمندری گشتی طیارے علاقے میں نگرانی اور ممکنہ خطرات پر نظر رکھنے میں مدد کریں گے، جبکہ دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیم سمندر میں موجود دھماکہ خیز خطرات سے نمٹنے کے لیے ماہرین کی خدمات فراہم کرے گی۔
BREAKING: South Korea's defense ministry says it will deploy maritime patrol aircraft and an explosive ordnance disposal team to waters near the Strait of Hormuz as part of a mission to help keep the strategic waterway open. | via Agence France-Presse pic.twitter.com/WgHLyTD78F
— The Philippine Star (@PhilippineStar) November 5, 2026
قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے۔ بین الاقوامی توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت کے لحاظ سے اس آبی گزرگاہ کو انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ ایسے میں اس راستے پر کسی بھی طرح کی حفاظتی رکاوٹ عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ جنوبی کوریا کا یہ مشن اسی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل سمندری راستے کو کھلا رکھنے کی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے۔