غزہ: پروپیگنڈے سے پرے کچھ اور بھی ہے!... اعظم شہاب
سامراجی میڈیا کے ذریعے حماس کی بے بسی و کمزوری اور اسرائیل کی طاقت و برتری کی جو تصویر دکھائی جا رہی ہے، حقیقت میں ویسا نہیں ہے۔
غزہ و اسرائیل جنگ کی وہی خبریں ہم تک پہنچ رہی ہیں جو سامراجی میڈیا ہم تک پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ خبریں عام طورپر اسرائیلی فوج کی بمباریوں اور غزہ میں جان و مال کی تباہیوں پرمبنی ہوتی ہیں۔ چونکہ جنگ جیتنے کا ایک اصول فریقِ مخالف کو اعصابی طور پر کمزور کرنا بھی ہوتا ہے، اس لیے اس طرح کی خبروں سے لوگوں میں تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے بہت بڑی بے وقوفی کر دی ہے۔ اس کی بے وقوفی کی سزا نہ صرف غزہ بلکہ پورے فلسطین کو بھگتنی پڑ رہی ہے اور یہ کہ اسرائیل اپنی کارروائیوں میں حق بجانب ہے۔ اس تاثر کو مزید مضبوط کرنے کے لیے امریکہ و اس کے حواری اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی و بمباری کو ’اسرائیل کی مدافعت کا حق‘ قرار دے رہے ہیں۔ گویا حماس کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے سامراجی میڈیا نے پروپیگنڈے کا پورا محاذ سنبھال لیا ہے۔
لیکن مغربی میڈیا کی اس محاذ آرائی کے درمیان بھی کچھ ذرائع ایسے ہیں جو اس جنگ کی حقیقی صورت حال لوگوں تک کسی نہ کسی حد تک پہنچا رہے ہیں۔ گو کہ ان ذرائع کے بارے میں بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جو خبریں دے رہے ہیں وہ ’فلٹرڈ‘ نہیں ہیں، لیکن ان کی بیشتر خبروں سے مغربی میڈیا کے ذریعے چھپائی جانے والے حقائق آشکار ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مغربی میڈیا کے ذریعے دی جا نے والی خبروں سے یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ حماس کے لوگ اپنی سرنگوں میں دبک کر بیٹھ گئے ہیں اور اسرائیلی حملے میں غزہ کے عام لوگ مارے جا رہے ہیں، اور یہ کہ اسرائیل ہر محاذ پر حماس کو پسپا کر رہا ہے۔ لیکن العربیہ ڈاٹ نیٹ پر آنے والی ایک خبر اس تاثر کو بالکل غلط ثابت کر دیتی ہے۔ یہ خبر اتوار (22 اکتوبر) کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے خان یونس کے قریب اسرائیلی فوج نے حملہ کر دیا تھا لیکن حماس کی عسکری ونگ ’القسام بریگیڈ‘ کے جانبازوں نے نہ صرف اس اسرائیلی حملے کو پسپا کر دیا بلکہ اسرائیلی فوج کے ایک ٹینک اور دو بلڈوزر کو بھی تباہ کر دیا۔ القسام بریگیڈ کے جوابی حملے میں اسرائیلی فوج اپنی بکتربند گاڑیوں کو چھوڑ کر بھاگی ہے۔