آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے تباہ، آئی آر جی سی کا دعویٰ
آئی آر جی سی کے سرکاری میڈیا ادارے ’سپاہ نیوز‘ پر جاری بیان میں بحریہ نے کہا کہ ایک ٹینکر آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں بارودی سرنگوں کی زد میں آیا، جبکہ دوسرا آبی گزرگاہ سے گزرنے کے وقت ٹکرا گیا۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے اتوار کی صبح بتایا کہ آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 2 آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں ان میں آگ لگ گئی۔ آئی آر جی سی کے سرکاری میڈیا ادارے ’سپاہ نیوز‘ پر جاری بیان میں بحریہ نے کہا کہ ایک ٹینکر آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں بارودی سرنگوں کی زد میں آیا، جبکہ دوسرا آبی گزرگاہ سے گزرنے کے وقت ٹکرا گیا۔
Two tankers caught fire in the Strait of Hormuz after hitting mines while attempting to transit a route not authorized by Iran, the press service of the Islamic Revolutionary Guard Corps reported:
— TASS (@tassagency_en) November 8, 2026
https://t.co/JYhGnircQO pic.twitter.com/3FNXJDwc4p
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں جہازوں نے اپنے نیویگیشن اور جی پی ایس نظام بند کر رکھے تھے اور دھماکوں کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ شنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی جہاز امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرے گا اور ایرانی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے غیر مجاز علاقے میں داخل ہوگا، وہ یقینی طور پر سمندری بارودی سرنگوں کی زد میں آ جائے گا۔
اس دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ خلیج عمان میں اس کی افواج نے ایک تجارتی جہاز کو ناکارہ بنا دیا۔ اس کے مطابق جہاز کے عملے نے بار بار دی گئی وارننگ کو نظر انداز کیا اور ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی کی کئی مرتبہ خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی۔ امریکی فوج نے بتایا کہ اس کے ایک فوجی طیارے نے سینٹ کٹس کے پرچم بردار مال بردار جہاز ایم وی ہوڈا کے پچھلے حصے کو درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور اسے ناکارہ بنا دیا۔
فوجی کمان (سینٹ کام) کی افواج نے کارروائی سے پہلے جہاز کے عملے کو ہدایت دی تھی کہ وہ نشانہ بنائے جانے والے علاقے کو خالی کر دیں۔ بیان کے مطابق یہ مال بردار جہاز ایک ایرانی بندرگاہ پر جانے کے بعد علاقائی سمندری حدود سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سینٹ کام کے مطابق جولائی سے اب تک امریکی فوج نے 147 تجارتی جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا ہے، جبکہ بحری ناکہ بندی تسلیم کرنے سے انکار کرنے والے 5 تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوج اس سے قبل ایران کے 10 تجارتی آئل ٹینکروں کو تباہ کر چکی ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ ٹینکر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے زیر انتظام اربوں ڈالر کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ ایرانی علاقے پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد تہران نے اسرائیل اور امریکہ سے متعلق یا ان سے وابستہ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی۔ وہیں امریکہ نے بھی ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔