یوگی بمقابلہ اعظم: قانون کی جنگ یا بدلے کی سیاست؟... ناگیندر

ایک لیڈر کو سیاسی طور سے ختم کرنے کی ضد میں حکومت کتنی دور جا سکتی ہے، یوگی آدتیہ ناتھ اور اعظم خان کا معاملہ اس کی بہترین مثال ہے۔

یوگی بمقابلہ اعظم: قانون کی جنگ یا بدلے کی سیاست؟... ناگیندر

سپریم کورٹ نے سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان کو جیل سے رہائی کے دوران ہی ای ڈی کے ذریعے گرفتار کیے جانے کو چیلنج کرنے والی عرضی کو پیر (2 نومبر) کو سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ اس عرضی پر اسی ہفتہ سماعت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے انہیں راحت بھی مل جائے، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اتر پردیش حکومت انہیں جیل سے باہر رہنے دے گی؟ کیا اقتدار انہیں کھلی ہوا میں سانس لینے دینا چاہتا ہے؟ خاص طور پر ایسے وقت میں، جب ملک اور ریاست میں انتخابی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔

گزشتہ دنوں جب سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے رامپور ضلع جیل میں اعظم خان سے ملاقات کی، تو ریاست کی سیاست میں ایک بار پھر زبردست گرما گرمی دیکھنے کو ملی۔ اس کے بعد ہونے والی سماعت میں ہائی کورٹ نے 2 پین کارڈ کے معاملہ میں سزا معطل کرتے ہوئے اعظم خان کو ضمانت دے دی۔ وہ جیل سے باہر نکلنے ہی والے تھے کہ باہر انتظار کر رہی ای ڈی کی ٹیم نے انہیں منی لانڈرنگ کے ایک اور معاملے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ یعنی ایک معاملے میں قانونی راحت ملی نہیں کہ دوسرے شکنجے نے انہیں دوبارہ سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔

اتر پردیش کی سیاست میں یوگی آدتیہ ناتھ اور اعظم خان کے درمیان یہ تلخی اب محض دو رہنماؤں کی ذاتی دشمنی تک محدود نہیں رہ گئی ہے۔ یہ کشمکش آج اتر پردیش کے سیاسی کردار، انتظامی مشینری کے استعمال، مسلم قیادت کے مستقبل اور ہندوستانی جمہوریت میں مخالفت کے تئیں اقتدار کے رویے کا ایک بڑا اور پیچیدہ سوال بن چکی ہے۔ ایک طرف اعظم خان کے خلاف درج 80 سے زیادہ مقدمات کی طویل فہرست، ان کی بار بار گرفتاری، جوہر یونیورسٹی پر سرکاری بلڈوزر کی کارروائی اور ایک معاملے سے رہا ہوتے ہی دوسرے میں پھنس جانا ہے، تو دوسری طرف یہ سوال مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ کیا یہ سب صرف ’قانون کی حکمرانی‘ (رول آف لا) قائم کرنے کی کوشش ہے یا پھر کسی مضبوط سیاسی مخالف کو اس کی جڑ سمیت اکھاڑ پھینکنے کی ایک سوچی سمجھی ضد؟ اس کثیر الجہتی سوال کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہمیں دونوں لیڈران کے درمیان پرانی نظریاتی کشمکش، رامپور اور گورکھپور کے سیاسی مساوات اور 2017 کے بعد انتظامیہ کے بدلے ہوئے تیوروں کا جائزہ لینا ہوگا۔

یوپی کی سیاست کے 2 متضاد قطب

کسی بھی سیاسی نظام میں کچھ چہرے محض افراد نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے دور کے نظریات کی سب سے بڑی علامت ہوتے ہیں۔ یوپی کی سیاست میں یوگی آدتیہ ناتھ اور اعظم خان ایسے ہی دو متضاد قطب ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ جہاں ’گورکش پیٹھ‘ کی روایت اور ہندوتوا کے جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کے سب سے بڑے علم بردار کے طور پر قائم ہیں، وہیں اعظم خان گزشتہ 4 دہائیوں سے اتر پردیش میں مسلم سیاست کے سب سے بے باک، بااثر اور نظریاتی طور پر سخت گیر ستون مانے جاتے رہے ہیں۔ 2012 سے 2017 کے درمیان سماجوادی پارٹی کی حکومت کے دوران جب اعظم خان ریاست کے سب سے طاقتور وزیروں میں شمار ہوتے تھے، تب رامپور ان کی سیاسی تجربہ گاہ اور ناقابل تسخیر قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس گورکھپور سے رکن پارلیمنٹ رہنے والے یوگی آدتیہ ناتھ ریاست کی مرکزی دھارے کی سیاست میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہے تھے۔ جب 2017 میں ریاست کے اقتدار میں تبدیلی آئی اور یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ بنے، تو یہ تبدیلی محض 2 پارٹیوں کی ادلا بدلی نہیں تھی۔ یہ اقتدار کے مرکز، انتظامی طرز عمل اور نظریاتی بالادستی کی ایک تاریخی منتقلی تھی، جس کے مرکز میں اعظم خان اور ان کی سیاسی سلطنت آ گئی۔

دشمنی کی تاریخی شروعات

ایسا نہیں ہے کہ یوگی اور اعظم کے درمیان تلخی حکومت بدلنے کے بعد شروع ہوئی ہو۔ اس کی بنیاد آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے سے بہت پہلے ہی پڑ چکی تھی۔ 26-2015 کے دوران جب اسمبلی کے ایوان میں یا عوامی پلیٹ فارموں سے دونوں رہنما آمنے سامنے آتے، تو سیاسی آداب اکثر پامال ہوتے رہتے تھے۔ اعظم خان نے اس وقت کی سماجوادی پارٹی حکومت کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ کی ذاتی زندگی اور سادھو سنتوں کے طریقہ کار کو لے کر کئی بار انتہائی جارحانہ اور متنازعہ رویہ اختیار کیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی اعظم خان کے سیاسی تکبر اور انتظامی طرز عمل پر سخت جوابی حملے کیے۔ رفتہ رفتہ یہ ذاتی تلخی گہری سیاسی دشمنی میں تبدیل ہو گئی۔

مئی 2017 میں جب یوگی نے اقتدار سنبھالا، تو ان کی فطرت کے مطابق اس ذاتی دشمنی کو انتظامی طاقت بھی مل گئی۔ اعظم خان نے حکومت کے ابتدائی مہینوں میں ہی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سنگین الزام لگایا۔ یہاں تک کہ انہوں نے بین الاقوامی پلیٹ فارموں اور اقوام متحدہ تک جانے کی بات کہہ کر حکومت کی مشکلات بڑھانے کی کوشش کی۔ آگرہ میں سماج وادی پارٹی کے ایک کنونشن کے دوران اعظم نے رام اور کرشن کو اپنا آئیڈیل بتاتے ہوئے یوگی سے کھل کر سوال کیا کہ کیا وہ پیغمبر محمد اور حضرت عیسیٰ کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں؟ یہ اس سیاسی ثقافت کو براہ راست چیلنج تھا، جسے یوگی آدتیہ ناتھ آگے بڑھا رہے تھے۔ اسی وقت طے ہو گیا تھا کہ آنے والے دنوں میں یہ کشمکش وجود کی لڑائی بننے والی ہے۔

بیانات میں پولرائزیشن اور ’رامپوری چاقو‘

جیسے جیسے انتخابات قریب آئے، دونوں لیڈران کے درمیان زبان اور جارحیت میں تلخی بڑھتی گئی۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران رام پور کی جنگ پر پورے ملک کی نظریں جم گئیں۔ اعظم خان نے بی جے پی امیدوار جیا پردا کے خلاف ’بھگوا انڈر وئیر‘ سے متعلق توہین آمیز تبصرہ کیا، تو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سنبھل میں ایک انتخابی جلسے کے دوران براہ راست جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ’اینٹی رومیو اسکواڈ‘ ایسے ہی لوگوں کے لیے بنایا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار راجیش ملک کہتے ہیں کہ ’’کسی وزیر اعلیٰ کی جانب سے عوامی پلیٹ فارم سے کسی سیاسی مخالف کو براہ راست پولیس کے جبر کی علامتوں سے جوڑنا معمول کی سیاسی تنقید سے کہیں آگے کی بات تھی۔‘‘ اسی انتخابی مہم کے دوران اعظم خان نے بھی یوگی آدتیہ ناتھ پر سخت ذاتی تبصرے کیے۔ اکتوبر 2011 میں رامپور اسمبلی ضمنی انتخاب کی مہم چلانے خود وزیر اعلیٰ یوگی پہنچے، تو انہوں نے اعظم کا نام لیے بغیر ان پر غریبوں اور کسانوں کی زمین ہڑپنے کا کھلا الزام لگایا۔ اس کے بعد کے برسوں میں بھی، چاہے وہ ’رام پوری چاقو‘ کا حوالہ ہو یا ’رسی جل گئی، مگر بل نہیں گیا‘ جیسے طنز، اعظم پر حملہ کیے بغیر یوگی کی کوئی تقریر کبھی مکمل ہی نہیں ہوئی۔ اقتدار کے اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھے یوگی کے لیے اعظم اس وقت تک ایک ایسی علامت بن چکے تھے، جسے نیست و نابود کرنا ان کی سیاسی اور نظریاتی ترجیح تھی۔

قانونی شکنجہ: معمولی معاملات بمقابلہ سنگین الزامات

اعظم خان کے خلاف مقدمات کا انبار لگنا اس پوری کہانی کا سب سے متنازعہ اور پیچیدہ حصہ ہے۔ 2017 کے بعد اعظم خان پر 80 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے۔ ان مقدمات کی نوعیت کو 2 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. معمولی اور انتظامی تنازعات– ان میں بھینس، بکری اور مرغی کی چوری، مدرسہ عالیہ کی پرانی کتابیں اور میونسپلٹی کی صفائی کی مشینیں جوہر یونیورسٹی کے احاطے میں رکھے جانے جیسے مقدمات شامل ہیں۔ ناقدین اور قانونی ماہرین کے ایک بڑے طبقے کا خیال ہے کہ یہ ’ریاستی مشینری کا حد سے زیادہ استعمال‘ اور بدنیتی پر مبنی کارروائی ہے، جس کا مقصد کسی شخص کو محض ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کرنا تھا۔

  2. سنگین، مالی اور مجرمانہ معاملات– لیکن اس فہرست میں صرف چھوٹے مقدمات ہی نہیں ہیں۔ جوہر یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے کسانوں، دلتوں اور سرکاری زمینوں پر زبردستی قبضہ کرنے کے درجنوں سنگین مقدمات درج ہوئے۔ بیٹے عبداللہ اعظم کے لیے فرضی پیدائشی سرٹیفکیٹ بنوانے، دو الگ الگ تاریخ پیدائش والے دو پین کارڈ اور پاسپورٹ استعمال کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا، جس میں عدالت نے انہیں اور ان کے خاندان کو قصوروار قرار دیا۔ رام پور کے ڈونگرپور علاقے میں غریب لوگوں کے مکانات زبردستی تڑوانے، لوٹ مار اور ڈکیتی (دفعہ 395) کا معاملہ بھی شامل ہے، جس میں ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے انہیں طویل سزا سنائی۔ اس کے علاوہ، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے منی لانڈرنگ اور یونیورسٹی کو ملنے والے مالی عطیات میں بے ضابطگیوں کی جانچ جاری ہے، جس میں ان کی حالیہ گرفتاری ہوئی ہے۔

ایسے میں یہ بات تو واضح ہو ہی جاتی ہے کہ اعظم خان کا جیل کا سفر محض پولیس تھانوں میں درج ایف آئی آر کا نتیجہ نہیں، بلکہ ملک کی مختلف عدالتوں کی جانب سے انہیں کئی معاملات میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد شروع ہونے والے ایک طویل عدالتی عمل کا حصہ ہے۔

قانون کی حکمرانی یا سیاسی انتقام؟

لیکن اصل سوال عدالتی فیصلوں کی تکنیکی باریکیوں کا نہیں، بلکہ ریاستی اقتدار کی نیت کا ہے۔ جب ریاستی حکومت کسی ایک رہنما کو گھیرنے کے لیے اپنی پوری طاقت، خفیہ نظام، محکمۂ مال اور پولیس فورس جھونک دیتی ہے، تو یہ ’انصاف‘ کم اور ’سیاسی انتقام‘ زیادہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ اعظم خان مجرم ہیں یا نہیں، اس کا آخری فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ لیکن جس طرح ایک مقدمے میں ضمانت ملتے ہی عجلت میں دوسرا مقدمہ زندہ کر دیا جاتا ہے اور رہائی پانے والے کے استقبال کے لیے ایک دوسری نفری پہلے سے جیل کے پھاٹک پر موجود دکھائی دیتی ہے، وہ واضح پیغام دیتا ہے کہ اقتدار کا مقصد محض سزا دلانا نہیں، بلکہ اعظم خان کو سیاسی طور پر پوری طرح غیر متعلق اور مفلوج بنا دینا ہے۔

یہ لڑائی اب صرف یوگی اور اعظم کی نہیں رہ گئی ہے۔ یہ اس ملک کی پوری اپوزیشن اور اقلیتی طبقے کے لیے ایک خوفناک سیاسی مثال (پریسیڈنٹ) بن چکی ہے۔ اقتدار آج یہ پیغام دے رہا ہے کہ جو بھی اس کے نظریاتی ایجنڈے کی راہ میں آئے گا، اس کا انجام اعظم خان جیسا ہوگا۔ اس کا سیاسی قلعہ ڈھا دیا جائے گا، اس کا خاندان سلاخوں کے پیچھے ہوگا اور اس کا پورا وجود قانونی چکر ویو میں الجھا دیا جائے گا۔

اعظم خان کو نیست و نابود کرنے کی یہ ضد اتر پردیش کی سیاست کو ایک ایسے دوراہے پر لے آئی ہے، جہاں ’قانون کی حکمرانی‘ خود کٹہرے میں کھڑی ہے۔ اقتدار بھلے ہی اپنی اس ظالمانہ کامیابی پر اپنی پیٹھ تھپتھپا لے، لیکن تاریخ یاد رکھے گی کہ جب جمہوری مخالفت کو کچلنے کے لیے قانون کو ہی ہتھیار بنا لیا جائے، تو وہ انصاف نہیں بلکہ ’کینہ پروری کی مکمل سیاست‘ ہوتی ہے۔

پیشے سے وکیل اور سماجی کارکن پربھات کمار کہتے ہیں کہ جمہوریت کی خوبصورتی اسی بات میں ہے کہ جرم اور بدعنوانی کا حساب ہمیشہ قانون اور غیر جانب دار عدلیہ کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ اقتدار کے تکبر یا سیاسی رنجش کی بنیاد پر۔ یوگی بنام اعظم کی یہ لڑائی آخرکار اس بات کا امتحان ہے کہ کیا اتر پردیش میں قانون کی حکمرانی واقعی غیر جانب دار ہے یا پھر اقتدار کی راہداریوں میں طاقتور حکمرانوں کے ہاتھوں انصاف ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔