ہلدوانی میں مدرسہ پر بلڈوزر چلنے کے بعد ہنگامہ، پتھراؤ و آگ زنی کے واقعات، کرفیو نافذ
انتظامیہ کی ٹیم مجسد-مدرسہ توڑنے پہنچی تو مقامی لوگوں سے ان کی نوک جھونک ہو گئی، جیسے ہی انتظامیہ کا بلڈوزر مسجد-مدرسہ پر چلا وہاں کشیدگی پھیل گئی، ناراض لوگوں نے کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔
اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں جمعرات کو ونبھول پورہ تھانہ حلقہ کے ملکہ باغیچے میں بنے مبینہ ناجائز مسجد اور مدرسہ کو توڑنے کی کارروائی کی گئی۔ اس سے ناراض ہو کر وہاں کے لوگوں نے پولیس ٹیم پر پتھراؤ شروع کر دیا جس میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ اتنا ہی نہیں، ناراض لوگوں نے جے سی بی کو بھی توڑ دیا۔ مشتعل لوگوں نے کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا۔
#WATCH | Uttarakhand | Violence broke out in Banbhoolpura, Haldwani following an anti-encroachment drive today. DM Nainital has imposed curfew in Banbhoolpura and ordered a shoot-on-sight order for rioters. Details awaited. pic.twitter.com/Qykla7UO65
— ANI (@ANI) February 8, 2024
حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بھی طاقت کا زبردست استعمال کیا۔ لوگوں کو دوڑا دوڑا کر پیٹا گیا جس مین کئی خواتین کو بھی چوٹیں آئیں۔ پولیس کارروائی سے بھیڑ مزید مشتعل ہو گئی اور اس نے پولیس اسٹیشن پر بھی پتھراؤ کر دیا۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نینی تال نے ونبھول پورہ میں کرفیو لگا دیا ہے اور فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔
دراصل وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ریاست کی سرکاری زمینوں پر بنے غیر قانونی قبضہ کو ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ جس کے بعد سے ہی ریاست میں ایسے تجاوزات کو گرانے کی کارروائی جاری ہے۔ اسی ضمن میں جمعرات کو ہلدوانی کے ونبھول پورہ تھانہ حلقہ کے ملکہ باغیچے میں بنے مبینہ طور پر ناجائز مسجد و مدرسہ کو توڑنے کی کارروائی کی گئی، جس پر ہنگامہ ہو گیا۔
#WATCH | Haldwani violence | Uttarakhand CM Pushkar Singh Dhami says, "In Banbhoolpura area of Haldwani, a team from the administration had gone for an anti-encroachment drive, following Court's order. Anti-social elements there entered into a brawl with the Police. A few Police… https://t.co/7OgN1O22lU pic.twitter.com/hDMUWyZDjF
— ANI (@ANI) February 8, 2024
ہلدوانی میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزیر اعلیٰ دھامی نے اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ، چیف سکریٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے امن بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کو سماج دشمن عناصر سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت دینے کے ساتھ ہی فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے حکم بھی دیے ہیں۔
دراصل جب پولیس و انتظامیہ کی ٹیم مسجد و مدرسہ کو توڑنے کے لیے پہنچی تب مقامی لوگوں سے ان کی نوک جھونک ہوئی۔ جیسے ہی انتظامیہ کا بلڈوزر مسجد و مدرسہ پر چلا تب وہاں کشیدگی کا ماحول بن گیا اور مشتعل بھیڑ نے وہاں کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا اور جے سی بی کو بھی توڑ دیا۔
VIDEO | The authorities in Uttarakhand's Haldwani demolished a madrasa believed to have been illegally constructed near the Banbhulpura police station today. pic.twitter.com/6HYLDktGBf
— Press Trust of India (@PTI_News) February 8, 2024
اس پرتشدد واقعہ کے بعد ہلدوانی میں حالات کشیدہ بن گئے ہیں۔ پولیس فورس لگاتار گشت کر رہی ہے۔ پرتشدد واقعہ میں پولیس اور میڈیا اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس افسر پنکج اپادھیائے نے بتایا کہ مدرسہ و نماز والی جگہ پوری طرح ناجائز ہے۔ اس جگہ کو سیل کر دیا گیا تھا او راب اسے منہدم کر دیا گیا ہے۔