مودی مایوس اور پریشان ہیں، ’جھولا اٹھا کر جانے‘ کا وقت قریب ہے: کانگریس
کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مایوس، پریشان اور بے چین ہیں، جبکہ ماضی میں جن مطالبات اور تحریکوں کو نشانہ بنایا، بعد میں انہی پر موقف بدلا
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم واضح طور پر مایوس، پریشان اور بے چین ہیں اور ان کے ’جھولا اٹھا کر جانے‘ کا وقت تیزی سے قریب آ رہا ہے۔ رمیش نے الزام لگایا کہ دیوالی جیسے غیر سیاسی اور سنجیدہ موقع پر بھی وزیر اعظم نے اپنے مخصوص انداز میں سیاسی مخالفین کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اتوار کو ایک پوسٹ میں جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ایک مرتبہ پھر ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نے سکیورٹی فورسز کی وردی پہن کر ایک غیر سیاسی تقریب میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا، جو مناسب نہیں تھا۔ ان کے مطابق قومی سلامتی اور فوجی جوانوں سے متعلق مواقع کو سیاسی بیانات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت کا ماضی کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ وزیر اعظم نے مختلف عوامی مطالبات اور احتجاجی تحریکوں کو پہلے شدت پسند نظریات سے جوڑا، لیکن بعد میں انہی معاملات پر اپنا مؤقف تبدیل کر لیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 28 اپریل 2024 کو وزیر اعظم نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کرنے والوں کو ’شہری نکسل‘ قرار دیا تھا۔ تاہم بعد میں 30 اپریل 2025 کو حکومت نے اعلان کیا کہ 2027 کی مردم شماری کے تحت ذات پر مبنی مردم شماری بھی کرائی جائے گی۔
کانگریس جنرل سکریٹری نے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر 2020 میں وزیر اعظم نے تین متنازع زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کو نکسل نظریات کا حامی قرار دیا تھا۔ لیکن مسلسل احتجاج اور عوامی دباؤ کے بعد 19 نومبر 2021 کو خود وزیر اعظم کو ان تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کرنا پڑا۔
رمیش نے دعویٰ کیا کہ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ بی جے پی اور حکومت اختلاف رائے کو سننے کے بجائے ابتدا میں مخالفین کے لیے سخت اور توہین آمیز اصطلاحات استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں جب عوامی دباؤ بڑھتا ہے تو حکومت کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑتا ہے۔ کانگریس رہنما نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم کی حالیہ زبان ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی کی علامت ہے۔
دریں اثنا، وزیر اعظم مودی نے چھتیس گڑھ کے بستر ضلع کے کرن پور میں سی آر پی ایف کیمپ میں جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگرچہ مسلح ماؤ نوازوں کے خلاف کارروائیوں میں کامیابیاں ملی ہیں، مگر نکسل ازم کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’دماغی نکسل‘‘ سیاسی جماعتوں سمیت متعدد تنظیموں میں داخل ہو چکے ہیں اور لوگوں کو آئین اور جمہوریت کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ مودی نے کہا کہ ایسے عناصر کی شناخت کر کے انہیں شکست دینا اور ملک کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔