پی ایم مودی ہی نہیں، بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ نے بھی راجستھانی عوام کو دھوکہ دیا: کھڑگے
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے راجستھان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’راجستھان کی کانگریس حکومت نے ریاست کو معاشی، سماجی، تعلیمی اور طبی اعتبار سے آگے بڑھایا۔‘‘
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پیر کے روز راجستھان کے باراں میں ای آر سی پی معاملے پر مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ای سی آر پی جن جاگرن مہم کے تحت منعقد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ راجستھان سے بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ ہیں اور مودی حکومت میں کئی مرکزی وزیر بھی ہیں۔ عوام نے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کو چن کر پارلیمنٹ بھیجا، لیکن یہ بی جے پی اراکین پارلیمنٹ راجستھان کو نہ پیسہ دلا پائے اور نہ ہی پانی۔ پی ایم مودی ہی نہیں، بلکہ بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ نے بھی راجستھان کی عوام کو دھوکہ دیا ہے۔
कांग्रेस अध्यक्ष श्री @kharge ने बारां, राजस्थान में विशाल जनसभा को संबोधित किया।
— Congress (@INCIndia) October 16, 2023
राजस्थान की कांग्रेस सरकार महंगाई के खिलाफ दिन-रात काम कर रही है, लोगों का जीवन खुशहाल बना रही है।
इसलिए तो जनता कह रही है-
काम किया दिल से, कांग्रेस फिर से। pic.twitter.com/o0DWZxN1Bw
کانگریس صدر نے راجستھان کی کانگریس حکومت کے فلاحی منصوبوں کی تعریف کرتے ہوئے اس کے فائدے بھی شمار کرائے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، ریاستی کانگریس انچارج سکھجندر سنگھ رندھاوا، ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا، اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی سمیت کانگریس کے تمام سینئر لیڈران موجود تھے۔
राजस्थान में पानी की समस्या है, लेकिन ऐसी योजनाओं में भी मोदी सरकार मदद नहीं करती।
— Congress (@INCIndia) October 16, 2023
मोदी सरकार में राजस्थान से करीब 25 सांसद हैं, कई मंत्री हैं और फिर भी राजस्थान को पैसा नहीं मिलता।
आपने जिन सांसदों को चुनकर भेजा वो भी राजस्थान को न पैसा दिला पाए और न पानी। PM मोदी ने ही नहीं… pic.twitter.com/EUDRD64m2j
تقریب میں شریک زبردست بھیڑ کو خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ راجستھان میں وزیر اعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آبپاشی منصوبہ کے لیے پیسے دیں گے، لیکن آج تک اس کا پتہ نہیں ہے۔ راجستھان کی کانگریس حکومت خود 25 ہزار کروڑ روپے خرچ کر اس منصوبہ کو آگے بڑھا رہی ہے۔ لیکن مودی حکومت نے اس کے لیے پیسے نہیں دیے۔ راجستھان میں پانی کا مسئلہ ہے، لیکن ایسے منصوبوں میں بھی مودی حکومت مدد نہیں کرتی۔ راجستھان سے بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ ہیں اور مودی حکومت میں کئی مرکزی وزرا ہیں۔ عوام نے جن اراکین پارلیمنٹ کو چن کر بھیجا وہ بھی راجستھان کو نہ پیسہ دلا پائے اور نہ ہی پانی۔
मोदी जी, लाल डायरी में लिखा है कि राजस्थान में कांग्रेस सरकार बनाएगी !
— Mallikarjun Kharge (@kharge) October 16, 2023
प्रधानमंत्री ही नहीं, भाजपा के 25 सांसदों ने भी राजस्थान की जनता को धोखा दिया है।
राजस्थान को केवल कांग्रेस सरकार ने आर्थिक, सामाजिक, शिक्षण और आरोग्य की दृष्टि से आगे बढ़ाया है। pic.twitter.com/a243BVLjP1
کھڑگے کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت غریبوں کے لیے منریگا کا پیسہ بھی ریاستوں کو نہیں دے رہی ہے۔ مشکل حالات میں بھی راجستھان کو کانگریس حکومت نے معاشی، سماجی، تعلیمی اور طبی شعبہ میں آگے بڑھایا ہے۔ غریبوں کے لیے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کئی اقدام کیے ہیں۔ یہ سب کچھ عوام کے لیے کیا گیا ہے۔ راجستھان کی کانگریس حکومت نے 21 لاکھ کسانوں کا 16 ہزار کروڑ روپے کا قرض معاف کیا۔ کانگریس حکومت نے صحت کا حق دیا۔ راجستھان میں کئی لوگوں کو پیسہ کی کمی کے سبب علاج کرناے میں پریشانی ہوتی تھی۔ کانگریس حکومت ان کے لیے ’چرنجیوی یوجنا‘ لے کر آئی جس کے تحت 25 لاکھ روپے تک کا علاج مفت ہوتا ہے۔ کانگریس حکومت نے شہری روزگار گارنٹی منصوبہ شروع کیا، بجلی بل میں راحت دی اور سلنڈر بھی 500 روپے میں دیا۔ راجستھان حکومت نے گارنٹیاں دیں اور اس گارنٹی کو پورا بھی کیا۔ دوسری طرف وزیر اعظم مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر سال دو کروڑ ملازمتیں دیں گے، 15 لاکھ روپے دیں گے، لیکن کچھ نہیں دیا۔ پی ایم مودی اپنی زبان سے پیچھے ہٹ گئے، لیکن راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اپنے سبھی وعدے پورے کیے۔ وزیر اعظم مودی نے راجستھان میں لال ڈائری کا تذکرہ کیا تھا۔ لال ڈائری میں لکھا ہے کہ آنے والے انتخاب میں راجستھان میں پھر سے کانگریس آنے والی ہے۔