’بی جے پی جھوٹ پھیلاتی رہی لیکن راہل گاندھی نے عوام کے لیے لڑنا بند نہیں کیا‘، کیرالہ میں پرینکا گاندھی کا خطاب
پرینکا گاندھی نے کیرالہ کے وائناڈ میں انتخابی تشہیر کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بحران اور بدعنوانی کے خلاف پورا ملک متحد ہے، بی جے پی کی شکست یقینی ہے۔
وائناڈ/ونڈور: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی آج کیرالہ میں انتخابی تشہیر کے دوران بی جے پی اور مرکز کی مودی حکومت پر زوردار انداز میں حملہ کرتی ہوئی دکھائی دیں۔ انھوں نے وائناڈ اور ونڈور میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک کی عوام مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بحران اور بدعنوانی کے خلاف متحد ہے۔ اس بار دلتوں، قبائلیوں، پسماندہ طبقات، نوجوانوں، خواتین، غریبوں، مزدوروں اور عام لوگوں کی حکومت بنے گی۔ بی جے پی کی شکست یقینی ہے۔‘‘
Your love has given us the strength & courage to fight every day for what is right.
— Congress (@INCIndia) April 24, 2024
Wandoor, Kerala pic.twitter.com/Rafd9BU9Cq
وائناڈ سے کانگریس امیدوار اور اپنے بھائی راہل گاندھی کی حمایت میں بدھ کے روز انتخابی مہم چلاتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ملک میں جمہوریت کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ پہلی بار انتخاب کے وقت دو موجودہ وزرائے اعلیٰ کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ مودی نے الیکٹورل بانڈ منصوبہ شروع کیا جس میں موجود بدعنوانی اب ظاہر ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس منصوبہ کو غیر قانونی بتایا اور عطیہ دہندگان کے نام ظاہر کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ جب سبھی نام ظاہر ہو گئے تو پتہ چلا کہ بی جے پی کو عطیہ کرنے والی سبھی کمپنیوں کو حکومت نے فائدہ پہنچایا تھا۔ ملک میں حالت ایسی ہے کہ جمہوریت اور سبھی ادارے کمزور ہو گئے ہیں۔ آج بے روزگاری و مہنگائی سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی گفتگو نہیں ہو رہی۔ عوام کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی یہ ہو رہی ہے کہ ان کے حقیقی ایشوز سے لگاتار توجہ بھٹکائی جا رہی ہے۔
At every step of his 10-year-old govt, PM Modi has done all he could to weaken democracy in India.
— Congress (@INCIndia) April 24, 2024
He has attacked opposition leaders, put Chief Ministers in jail, and ordered raids against anyone who has stood against him.
He has bullied the judiciary. He has brought the… pic.twitter.com/d0R5OZR2v7
خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ظالمانہ واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’منی پور میں تشدد ہوا، خواتین کو پورے ملک کے سامنے برہنہ گھمایا گیا۔ ہاتھرس اور اناؤ میں خواتین کے ساتھ عصمت دری کی گئی اور انھیں نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ملک کی اولمپک میڈل یافتگان خاتون کھلاڑیوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا رہی تھی، اور وہ سڑکوں پر انصاف کے لیے بھیک مانگ رہی تھیں۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے ان سے منھ موڑ لیا، چھیڑ چھاڑ کرنے والوں اور زانیوں کو بچایا گیا۔‘‘
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کو ہدف تنقید بناتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ صرف میرے بھائی (راہل گاندھی) اور کانگریس پارٹی پر حملہ کرتے ہیں۔ وہ کبھی بھی بی جے پی کی تنقید نہیں کرتے۔ کیرالہ کی حکومت بی جے پی کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا نام کئی گھوٹالوں میں آیا، لیکن مودی حکومت نے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ ہر دوسرے اپوزیشن لیڈران پر حملہ کیا جاتا ہے، پریشان کیا جاتا ہے اور جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، لیکن کیرالہ کے وزیر اعلیٰ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ کیرالہ بی جے پی صدر انتخاب کے دوران کروڑوں روپے کے ساتھ پکڑ گئے، ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
My brother raises his voice fearlessly and fights for the people of Wayanad.
— Congress (@INCIndia) April 24, 2024
Even the CM of Kerala only attacks Rahul ji; he doesn't attack the BJP. When a man fights for what is right, then all the forces of wrong come together against him.
I think each one of you stands for… pic.twitter.com/1ofSRdjEe1
راہل گاندھی کے ذریعہ عوامی مسائل لگاتار اٹھائے جانے اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’راہل گاندھی ہمیشہ عوام کے لیے لڑے ہیں۔ بی جے پی کے لوگ انھیں طرح طرح کے ناموں سے بلاتے ہیں، ہر دن انھیں گالیاں دیتے ہیں اور ان کے بارے میں جھوٹ پھیلانے والی ویڈیو مشتہر کرتے ہیں، لیکن راہل گاندھی نے عوام کے لیے لڑنا بند نہیں کیا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’راہلگ اندھی کی سیاست حقائق پر مبنی ہے، وہ سچ کی سیاست کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کی کوششوں سے کئی منصوبے وائناڈ کے لیے شروع کیےگ ئے ہیں۔ راہل گاندھی نے عوام کے لیے جنگ لڑی اور حکومت کو عوام کے ذریعہ معاش کی حفاظت کرنے کے لیے مجبور کیا۔ راہل گاندھی پوری لگن کے ساتھ وائناڈ کی عوام کے لیے کام کرتے رہیں گے، جیسا کہ انھوں نے گزشتہ پانچ سالوں میں کیا ہے۔‘‘