ایک طرف غزہ کے باشندے بے حال، دوسری طرف ’ٹریپل ایچ‘ نے اسرائیل کی بڑھائی ٹینشن!

اسرائیل پر سب سے پہلا حملہ حماس نے کیا، پھر دوسرا حملہ حزب اللہ کی طرف سے کیا گیا، اور تیسرا حملہ جمعرات کو حوثی باغیوں کے ذریعہ کیا گیا۔

ایک طرف غزہ کے باشندے بے حال، دوسری طرف ’ٹریپل ایچ‘ نے اسرائیل کی بڑھائی ٹینشن!

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایسے میں غزہ کے لیے جمعہ کی شب قیامت کی رات ہوسکتی ہے کیونکہ اسرائیل نے 3 جانب سے غزہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔ اسرائیلی فوج پوری طرح سے تیار ہیں اور صرف انھیں حکم کا انتظار ہے۔ ایسے ماحول میں غزہ کے باشندے خوف و دہشت کے عالم میں ہیں۔ پہلے سے ہی بے حال عوام اپنی زندگی کو لے کر خوف کے سایہ میں وقت گزار رہے ہیں۔

اس درمیان اسرائیل کو بھی سکون حاصل نہیں ہے، کیونکہ ’ٹریپل ایچ‘ نے اس کی نیند اڑا دی ہے۔ یہاں ٹریپل ایچ سے مراد حماس، حزب اللہ اور حوثی ہیں۔ دراصل غزہ کی حمایت کرنے والی تنظیموں نے اسرائیل کو پوری طرح سے گھیرنے کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، پھر لبنان سرحد سے اسرائیل پر دوسرا حملہ حزب اللہ کے ذریعہ کیا گیا۔ تیسرا حملہ جمعرات کو حوثیوں کے ذریعہ کیا گیا، حالانکہ اس حملے کو امریکہ نے ناکام بنا دیا۔ لیکن اس حملہ سے ظاہر ہو گیا ہے کہ تینوں ایچ (حماس، حزب اللہ، حوثی) اسرائیل کے خلاف متحد ہو چکے ہیں۔