191 افراد کے قتل کے مجرم پادری کو کینیا کی عدالت نے سنائی 200 سال قید کی سزا
کینیا کے ساحلی شہر ممباسا کی ہائی کورٹ نے پادری پال میکنزی کو یہ سزا سنائی۔ اسے 190 بچوں اور ایک بالغ شخص کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔
کینیا میں ایک مذہبی رہنما کو 191 افراد کے قتل کے جرم میں 200 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس مذہبی رہنما کا تعلق 400 سے زائد افراد کی ہلاکت کے معاملے سے بھی وابستہ بتایا جاتا ہے۔ کینیا کے ساحلی شہر ممباسا کی ہائی کورٹ نے پادری پال میکنزی کو یہ سزا سنائی۔ اسے 190 بچوں اور ایک بالغ شخص کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملنے کے خواہش مند ہیں تو بھوکے رہ کر اپنی جان دے دیں۔ پال میکنزی اور اس کے 28 پیروکاروں پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان میں وہ گارڈ بھی شامل تھے، جو زبردستی فاقہ کشی کے احکامات پر عمل کرواتے تھے۔ ان میں قبر کھودنے والے وہ افراد بھی شامل تھے، جنہوں نے اجتماعی قبروں کو چھپانے میں مدد کی تھی۔
A Kenyan court sentenced cult leader Paul Mackenzie to 200 years in prison for the murders of 190 children starved to death on his orders and buried in a forest, among 500 suspected victims of one of the deadliest cult-related mass killings of modern times https://t.co/IHhwSvZlnm pic.twitter.com/p6WRc4iw8y
— Reuters (@Reuters) November 6, 2026
اس معاملے میں صرف ایک شخص نے اپنا جرم قبول کیا تھا اور سزا میں نرمی کی درخواست کی تھی، جبکہ دیگر تمام ملزمین نے ان الزامات سے انکار کیا تھا۔ 19 اکتوبر کو عدالت نے تمام 29 ملزمین کو 191 افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔ سال 2023 میں ساحلی کلیفی کاؤنٹی میں 800 ایکڑ پر پھیلے چاکاما رینچکی قبروں سے 400 سے زائد لاشیں نکالی گئی تھیں۔ یہاں میکنزی کے پیروکار مقامی برادریوں اور حکام کی نظروں سے دور مٹی سے بنے گھروں میں رہتے تھے۔
A Kenyan court has sentenced starvation cult leader Paul Mackenzie to 200 years in prison for the murder of 190 children and one adult.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) November 6, 2026
The 191 victims were starved to death on his orders and buried in a forest.
: https://t.co/7WOc1ZqXlk pic.twitter.com/FrV3CHnb1n
وکلاء کا کہنا ہے کہ میکنزی اور اس کے گڈ نیوز انٹرنیشنل چرچ نے عیسائی عقیدے سے وابستہ ایک ایسا گروپ قائم کیا تھا، جو دنیا کے خاتمے کے نظریے پر یقین رکھتا تھا۔ اس گروپ میں اس نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا تھا کہ دنیا ختم ہونے سے پہلے جنت میں جانے کے لیے وہ خود کو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر موت کے حوالے کر دیں۔ اجتماعی قبروں کی دریافت کے بعد سے یہ معاملہ کینیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس سے یہ سوال اٹھا کہ جب 2017 سے ہی حکام کی نظر میکینزی پر تھی اور پولیس نے اس کے ٹھکانوں کی تلاشی بھی لی تھی تو اس کے باوجود وہ اپنی سرگرمیاں کیسے جاری رکھ سکا۔ پولیس کے مطابق 2019 میں حکام نے میکینزی کا چرچ بند کر دیا تھا، جس کے بعد وہ شاکاہولا جنگل منتقل ہو گیا تھا۔ میکینزی نے قتل کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے متاثرین کو بھوکا رہنے پر مجبور نہیں کیا، لیکن عدالت نے اس کی دلیل کو مسترد کر دیا۔