’یہ جمہوریت کا قتل ہے‘، مہاراشٹر اسپیکر کے فیصلے سے ادھو ٹھاکرے ناراض، سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ
مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کو ادھو ٹھاکرے نے جمہوریت کا قتل اور سپریم کورٹ کی بے عزتی قرار دیا ہے، انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کو عوام قطعی قبول نہین کرے گی۔
مہاراشٹر میں سیاسی سرگرمی اچانک بے حد تیز ہو گئی ہے۔ اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کے ذریعہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے حق میں فیصلہ سنائے جانے پر شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر ادھو ٹھاکرے نے تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے۔ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس فیصلے کے خلاف ان کی پارٹی سپریم کورٹ میں اپیل کرے گی۔
#WATCH | Maharashtra Assembly Speaker rules Shinde faction the real Shiv Sena.
— ANI (@ANI) January 10, 2024
Former Maharashtra CM Uddhav Thackeray says, "...I think he (speaker Rahul Narvekar) did not understand his responsibilities. Supreme Court provided a framework to be followed and even accepted our… pic.twitter.com/k2oDrPF3XN
ادھو ٹھاکرے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہم سپریم کورٹ سے اپیل کریں گے کہ اس معاملے کو انتخاب سے پہلے نمٹایا جائے۔ ہم ایک بار پھر کہنا چاہتے ہیں کہ شیوسینا ابھی ختم نہیں ہوگی۔ لوگ ایکناتھ شندے کی پارٹی کو قبول نہیں کریں گے۔‘‘ ادھو کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پہلے سے طے تھا اور فیصلہ سنانے سے پہلے اسمبلی اسپیکر کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات سے یہ واضح ہو گیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسپیکر کے ذریعہ بھرت گوگاولے کو شیوسینا کے جائز وہپ کی شکل میں منظوری دی گئی ہے جو کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی بے عزتی ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’آخر پارٹی کے آئین پر فیصلہ دینے والے اسپیکر کون ہوتے ہیں؟ اگر شندے کو لگتا ہے کہ اس نے فیملی کی حکومت ختم کر دی ہے تو مان لیجیے کہ ان کی غلامی کے دن شروع ہو گئے ہیں۔‘‘
ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے اسپیکر اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں ایک فریم ورک مہیا کرایا تھا اور چیف وہپ کے لیے ہماری نامزدگی کو بھی قبول کیا تھا۔ لیکن یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اتھارٹی کیا سپریم کورٹ سے بھی اوپر ہے۔‘‘
Never seen a more shameless verdict of the tribunal that has murdered democracy.
— Aaditya Thackeray (@AUThackeray) January 10, 2024
It is evident that the regime of gaddars are against the constitution given to us by Dr Babasaheb Ambedkar.
They want to re write the constitution to finish democracy.
Today the verdict has…
ادھو ٹھاکرے کے بیٹے اور مہاراشٹر حکومت میں وزیر رہ چکے آدتیہ ٹھاکرے نے بھی اس فیصلے پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اسے جمہوریت کا قتل بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہے کہ بی جے پی ملک کا آئین بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے زیادہ شرمناک کوئی فیصلہ میں نے نہیں دیکھا۔ آدتیہ ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ تازہ فیصلے سے صاف ہو گیا ہے کہ غدار بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کی بے عزتی کر رہے ہیں۔
#WATCH | Maharashtra Assembly Speaker rules Shinde faction the real Shiv Sena | Shiv Sena (UBT faction) leader Sanjay Raut says, "...This is BJP's conspiracy & this was their dream that one day we would finish Balasaheb Thackeray's Shiv Sena. But Shiv Sena won't finish with this… pic.twitter.com/GhFzNhIjrA
— ANI (@ANI) January 10, 2024
تازہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے پارٹی لیڈر سنجے راؤت کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کو سازش اور جمہوریت کا قتل بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر بی جے پی بالا صاحب کی شیوسینا کو ختم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے تو وہ سن لے کہ وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے۔ آج کا فیصلہ ایک سازش کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘
Pune | Maharashtra Assembly Speaker rules Shinde faction the real Shiv Sena | NCP chief Sharad Pawar says, "After this decision, Uddhav will have to go to SC...He is hopeful of getting justice in SC. Ambadas Danve said that we will go to the Supreme Court and challenge this… pic.twitter.com/hZqB4AYaLQ
— ANI (@ANI) January 10, 2024
اس درمیان این سی پی چیف شرد پوار نے بھی اسمبلی اسپیکر کے فیصلے پر تبصرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے، نہ کہ منصفانہ۔ انھوں نے کہا کہ اسپیکر کے فیصلے سے ادھو ٹھاکرے کا موقف مضبوط ہوا ہے۔ انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اس معاملے کو مہاراشٹر کے لوگوں کے درمیان لے کر جائیں گے۔
Maharashtra Assembly Speaker rules Shinde faction the real Shiv Sena | Maharashtra Congress President Nana Patole says, "Assembly speaker Rahul Narwekar's judgment is unconstitutional and it's an undemocratic judgment and it was against party rules, he accepted that the real… pic.twitter.com/W1L6Q1kp3I
— ANI (@ANI) January 10, 2024
اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کو کانگریس نے جمہوریت کے لیے بدشگونی قرار دیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس صدر نانا پٹولے نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہی نہیں بلکہ پارٹی اصولوں کے خلاف بھی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اسپیکر نے 1999 کی شیوسینا کو اصلی شیوسینا مانا ہے، لیکن کسی بھی فریق کے اراکین اسمبلی کو نااہل قرار نہیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ پر اعتماد ہے۔ جمہوریت خطرے میں ہے اور بی جے پی کو اس فیصلے کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔