ہر 10 منٹ میں ایک بچے کی موت، اسرائیلی ایکشن کی حمایت کرنے والے شرم کریں: پرینکا گاندھی
پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ ’’کتنی قابل مذمت اور افسوسناک واقعہ ہے، غزہ میں 10 ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے جن میں سے تقریباً نصف بچے ہیں۔‘‘
غزہ میں جاری اسرائیلی حملے کے درمیان ایک بار پھر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے متاثرین کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ انھوں نے اسرائیلی فوج کی کارروائی پر سوال کھڑا کرتے ہوئے فوراً جنگ بندی کی اپیل بھی کی ہے۔ ساتھ ہی اشارے ازارے میں ان حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے جنھوں نے غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کی حمایت کی ہے۔
دراصل پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر آج ایک پوسٹ کیا ہے جس میں غزہ پٹی میں بچوں کی لگاتار ہو رہی ہلاکتوں پر فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’کتنا قابل مذمت اور افسوسناک واقعہ ہے۔ غزہ میں 10 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً نصف بچے ہیں۔‘‘
What a deplorable and disgraceful milestone…over 10,000 people killed in Gaza of which almost half are children. One child is being killed every ten minutes according to the WHO, and now tiny babies had to be removed from their incubators due to lack of oxygen and were left to…
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) November 13, 2023
پرینکا گاندھی نے اپنے پوسٹ میں ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ پیش کردہ ڈاٹا کا بھی ذکر کیا ہے جس میں غزہ میں ہر 10 منٹ پر ایک بچے کی موت سے متعلق جانکاری دی گئی ہے۔ وہ لکھتی ہیں ’’ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہر 10 منٹ میں ایک بچے کی موت ہو رہی ہے۔ اب حالات ایسے ہیں کہ چھوٹے بچوں کو آکسیجن کی کمی کے سبب ان کے انکیوبیٹر سے نکالنا پڑ رہا ہے اور انھیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔‘‘
پرینکا گاندھی نے اسرائیلی ایکشن کی حمایت کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’غزہ میں تشویشناک حالات کے باوجود اس قتل عام کی حمایت کرنے والوں کی روح کو کوئی جھٹکا نہیں لگ رہا ہے۔ کوئی جنگ بندی نہیں... صرف زیادہ سے زیادہ بمباری، زیادہ تشدد، زیادہ قتل اور زیادہ درد۔ اس تباہی کی حمایت کرنے والی حکومتوں کو شرم آنی چاہیے۔ یہ کب ختم ہوگا۔‘‘