پاکستان: زوردار خود کش دھماکہ سے پھر لرز اٹھا خیبر پختونخوا، 3 پولیس اہلکار ہلاک، متعدد زخمی
دھماکہ ٹینک اڈہ کے پاس ڈیرا اسماعیل خان کے مقامی بازار میں ہوا ہے، بتایا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مادہ کو ایک موٹر سائیکل سے جوڑا گیا تھا۔
پاکستان کے خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر شدید دھماکہ ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس کو نشانہ بنایا ہے جس کی وجہ سے تین اہلکاروں کی موت ہو گئی ہے اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ دھماکہ خیبر پختونخوا ضلع کے ٹینک اڈہ کے پاس ڈیرا اسماعیل خان کے مقامی بازار میں ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکہ خیز مادہ کو ایک موٹر سائیکل سے جوڑا گیا تھا اور یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔
BREAKING:
— The Khorasan Diary (@khorasandiary) November 3, 2023
At least 7 policemen have been injured in an explosion near a police mobile van near Tank Adda, District Dera Ismail Khan, Khyber Pakhtunkhwa.
“Police personnel were being escorted for duty in the van”: Police
[Developing Story] pic.twitter.com/qZI3nuRmko
پولیس کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق دھماکہ کی آواز بہت شدید تھی جس سے آس پاس کے لوگوں میں دہشت پھیل گئی۔ خیبر پختونخوا میں اس سے پہلے بھی کئی دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں اور نشانہ بیشتر پولیس اہلکار ہی ہوتے ہیں۔ تازہ واقعہ کے بارے میں بھی پولیس نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس حملے کا نشانہ پولیس کی گاڑی ہو سکتی ہے۔ پولیس اور دفاعی دستہ نے موقع پر پہنچ کر بچاؤ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پورے علاقے کی گھیرابندی کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ’’ہم معاملے کی جانچ کر رہے ہیں اور اس کے پیچھے کے قصورواروں کو گرفتار کیا جائے گا۔‘‘
پاکستان کی ایک مقامی میڈیا نے بتایا کہ لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کے ملازمین جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ذریعہ حکومت کے ساتھ اپنی جدوجہد ختم کرنے کے بعد اس نے پاکستان میں خاص طور سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھایا ہے۔ خیبر پختونخوا ٹی ٹی پی کا قلعہ مانا جاتا ہے جو اکثر پاکستان پولیس کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کو انجام دیتے ہیں۔ حالانکہ تازہ حملے کی فی الحال کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔