منی پور میں امن بحالی کے لیے کوئی مدت کار طے نہیں کی جا سکتی: لیفٹیننٹ جنرل کلیتا
لیفٹیننٹ جنرل آر پی کلیتا کا کہنا ہے کہ منی پور میں تشدد کے چھوٹے موٹے واقعات ہوئے ہیں لیکن معمول والے حالات بحال کرنے کے لیے بات چیت اور سرگرم کردار کے ذریعہ کوششیں جاری ہیں۔
منی پور میں امن و امان کی بحالی کب ہوگی، اس سلسلے میں کوئی بھی واضح لفظوں میں کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ حالانکہ حالات پہلے سے کافی بہتر ہوئے ہیں، لیکن اب بھی ریاست میں مکمل امن نہیں ہے۔ فوج کے مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آر پی کلیتا نے ہفتہ کے روز کہا کہ بحران کی شکار ریاست منی پور میں امن و امان کی بحالی ہو رہی ہے، لیکن شمال مشرقی ریاست میں معمول والے حالات کب تک بحال ہوں گے اس تعلق سے کوئی مدت کار طے نہیں کی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کے ذریعہ بات چیت اور دیگر ذرائع سے مستقل امن بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
مشرقی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف نے کولکاتا کے فورٹ ولیم میں ’وجئے اسمارک‘ پر ایک گلپوشی تقریب کے موقع پر میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’منی پور میں 3 مئی کو تشدد بھڑکنے کے بعد آسام رائفلز کو بلایا گیا تھا۔ ہم نے ریاستی پولیس اور سنٹرل آرمڈ نیم فوجی دستہ (سی اے پی ایف) کے ساتھ مل کر کام کیا اور اگلے 10-7 دن میں کچھ حد تک معمول والے حالات لانے میں کامیاب رہے۔ نظامِ قانون کی حالت کافی حد تک کنٹرول میں آ گئی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ’وجئے دیوس‘ 1971 کی جنگ میں پاکستان کے خلاف ہندوستان کی فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں بنگلہ دیش کو پاکستان سے آزادی ملی تھی۔ اس ’وجئے دیوس‘ کے پیش نظر منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹننٹ کلیتا نے کہا کہ منی پور میں تشدد کے چھوٹے موٹے واقعات ہوئے ہیں، لیکن معمول والے حالات بحال کرنے کے لیے بات چیت اور سرگرم کردار کے ذریعہ سے کوششیں جاری ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں طبقات کے ہاتھوں میں بڑی تعداد میں اسلحے ہونے اور سرحد پار میانمار میں عدم استحکام کا اثر پڑا ہے۔