مرکزی وزیر چندرشیکھر کے خلاف کیرالہ میں ایف آئی آر درج، مذہبی نفرت پھیلانے کا الزام
راجیو شیکھر کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153(اے) اور کیرالہ پولیس ایکٹ کی دفعہ 120(او) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر راجیو چندرشیکھر کے ذریعہ دیے گئے متنازعہ بیان کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیرالہ پولیس نے کارروائی کی ہے۔ چندرشیکھر کے خلاف مبینہ طور پر دو طبقہ کے درمیان مذہبی نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسی سے متعلق کیرالہ پولیس کے سائبر سیل نے ان کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔
Case against Union Minister Rajeev Chandrashekhar over posts after Kerala blasts | @AishPaliwal https://t.co/JBXlbEbpWq
— IndiaToday (@IndiaToday) October 31, 2023
میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی وزیر چندرشیکھر کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153(اے) (مذہب، مقامِ پیدائش، رہائش کی بنیاد پر دو الگ الگ طبقات میں نفرت کو فروغ دینا) اور کیرالہ پولیس ایکٹ کی دفعہ 120(او) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز چندرشیکھر نے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کو کٹر پسندی کے ایشو پر گھیرا تھا۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ وجین نے بھی مرکزی وزیر پر تسکین کی سیاست کا الزام عائد کیا تھا۔ ساتھ ہی بایاں محاذ لیڈر نے کوچی دھماکوں کے بعد فرقہ واریت پر مبنی بیان دینے کو لے کر چندرشیکھر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی تنبیہ کی تھی۔
EXCLUSIVE | ONLY ON THE NEW INDIAN#KeralaBlast
— The New Indian (@TheNewIndian_in) October 30, 2023
Mos Rajeev Chandrashekhar speaks to the The New Indian
He responds to CM Vijayan's allegations that BJP leaders and a Union Minister are communalizing the blast in Kochi.
"I don't understand why CM Vijayan becomes upset when… pic.twitter.com/MnmiGPBlxV
دراصل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر چندرشیکھر کے ایک پوسٹ کی وزیر اعلیٰ کے ذریعہ تنقید کیے جانے کے بعد دونوں کے درمیان زبانی جنگ شروع ہو گئی۔ پوسٹ میں مرکزی وزیر اتوار کو کوچی کے پاس ایک عیسائی جلسہ میں ہوئے کئی دھماکوں کے لیے مبینہ طور پر ایک خاص طبقہ کو مورد الزام ٹھہرایا۔ جب وزیر اعلیٰ وجین نے اس بیان کی تنقید کی تو چندرشیکھر نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پوسٹ میں کسی طبقہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔