لوک سبھا میں پی ایم مودی کے ذریعہ نقل اتارنے کی ویڈیو شیئر کر کانگریس نے کیا جوابی حملہ
بی جے پی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’نقل اتارنے کا ایشو اٹھا کر 142 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی سے دھیان بھٹکانے کی اندھادھند کوشش ہو رہی ہے۔‘‘
نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کی نقل اتارنے کے ایشو پر کانگریس نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے بی جے پی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ 142 اراکین پارلیمنٹ کی حیرت انگیز طور پر معطلی سے دھیان بھٹکانے کی کوشش ہے۔ کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک پرانی ویڈیو بھی شیئر کی اور سوال پوچھا کہ ’’ذرا یاد کریں کہ کس نے کس کی نقل اتاری تھی اور وہ بھی لوک سبھا میں؟‘‘
بی جے پی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری (مواصلات) جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پی ایم مودی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’نقل اتارنے کا ایشو اٹھا کر 142 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی سے دھیان بھٹکانے کی اندھا دھند کوشش ہو رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں آج تک کبھی بھی اتنے بڑے پیمانے پر اراکین پارلیمنٹ کی معطلی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ پھر وہ لکھتے ہیں ’’لیکن ممکری کی بات کرنے والے ذرا یاد کریں کہ کس نے کس کی نقل اتاری تھی اور وہ بھی لوک سبھا میں؟‘‘
'मिमिक्री' का मुद्दा उठाकर 142 सांसदों के निलंबन से ध्यान भटकाने के अंधाधुंध प्रयास हो रहे हैं। संसद के इतिहास में आज तक कभी भी इतने बड़े पैमाने पर सांसदों का निलंबन नहीं हुआ है।
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) December 20, 2023
लेकिन मिमिक्री की बात करने वाले ज़रा याद करें कि किसने किसकी मिमिक्री की थी और वह भी लोकसभा में? pic.twitter.com/auXzHQDWJr
قابل ذکر ہے کہ جگدیپ دھنکھڑ کی نقل کا معاملہ گرما گیا ہے۔ بی جے پی نے نائب صدر، راجیہ سبھا چیئرمین، ایک کسان اور ایک جاٹ کے عہدہ کی بے عزتی کرنے کے لیے اپوزیشن کی تنقید کی ہے۔ دھنکھڑ نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس احاطہ میں ایک احتجاجی مظاہرہ کے دوران ترنمول کانگریس کے معطل رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی کے ذریعہ ان کا مذاق اڑانے پر عدم اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نقل اتارنا مضحکہ خیز اور ناقابل قبول ہے۔ یہ ایشو سوشل میڈیا پر گرم ہے۔ کئی بڑے صحافی اس واقعہ کو بے وجہ سیاسی رنگ دینے کا الزام لگا رہے ہیں۔