غزہ: اس حوصلے کو کیسے ماروگے؟... اعظم شہاب

اسرائیل کے فضائی و زمینی حملے سے نہ تو حماس کے پائے استقلال میں کوئی تزلزل آیا ہے اور نہ ہی غزہ کے عام لوگوں میں ہی کوئی خوف ہے۔

غزہ: اس حوصلے کو کیسے ماروگے؟... اعظم شہاب

غزہ پراسرائیل کی درندگی و خونریزی کو مہینہ بھر ہو گیا۔ دعویٰ تھا کہ 360 مربع کلومیٹر کی غزہ پٹی پر 2 دن میں قبضہ کرتے ہوئے حماس کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا، لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ جوہری طاقت و جدید ترین ہتھیاروں و ٹیکنالوجی سے لیس دنیا کی مضبوط ترین فوج دنیا کے سپر پاور کہے جانے والے امریکہ کی عملی حمایت کے باوجود ایک مہینے بعد بھی اپنے دعوے کا دسواں حصہ بھی نہیں حاصل کر سکی ہے۔ اپنے 3 لاکھ فوجیوں کے محاصرے کے ساتھ غزہ میں داخل ہو کر اسرائیل نے بھلے ہی غزہ کے مواصلاتی نظام کو ختم کر کے اسے دنیا سے کاٹ دیا ہو اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا ہو، لیکن اس اعلان پر غزہ کے ان خانما برباد بچوں کا وہ نعرہ حاوی ہے جس میں وہ مر جانے پر بھی اپنا وطن نہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ پر اپنی جارحیت سے حماس تو دور غزہ کے عام بچوں کو بھی اسرائیل خوفزدہ نہیں کر سکا ہے۔

غزہ کا ایک مشہور علاقہ خان یونس کا ہے، جہاں اسرائیلی جارحیت کے شکار فلسطینییوں کا ایک مستقل ریلیف کیمپ بھی ہے۔ اسی علاقے میں اقوامِ متحدہ کا ایک اسکول بھی ہے جس میں حالیہ بمباری میں بے گھر ہونے والے متعدد فلسطینی خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اسی اسکول کی ایک ویڈیو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں اسکول میں موجود بچے ایک ساتھ مل کر فلسطین کا ایک مشہور انقلابی ترانہ گا رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ’’اللہ سے وعدہ ہے کہ ہم نہیں چھوڑیں گے، اللہ سے وعدہ ہے کہ ہم بھوکے مر جائیں گے لیکن ذلت کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔‘‘ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بہت سے فلسطینی بچے جمع ہیں اور اسپیکر پر انقلابی ترانہ بج رہا ہے۔ بچے تالیاں بجا کر نعرے لگا رہے ہیں اور ترانے کے اشعار گا رہے ہیں۔ بچوں کے چہروں پر کسی قسم کا خوف نظر نہیں آ رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بچے کوئی جشن منا رہے ہیں۔

خان یونس کے اسکول سے جو اعلان ان بے گھر فلسطینی بچوں نے کیا، وہی اعلان 20 روز قبل حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے کیا تھا۔ 15 اکتوبر کو انہوں نے ٹیلی ویژن پر ایک تقریر کی تھی جس میں کہا تھا کہ ’’اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ سے 10 لاکھ سے زائد لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر جنوب کی طرف جانے کے لیے کہا گیا ہے، لیکن فلسطینی غزہ یا مغربی کنارے کو نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ اپنی تقریر میں اسماعیل ہانیہ نے غزہ کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کا بھی اعادہ کیا تھا۔ ہانیہ نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب اسرائیل نے لوگوں سے شمالی غزہ کو خالی کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا، لیکن دنیا دیکھتی رہی کہ 20 دن گزرنے کے بعد بھی کسی فلسطینی نے اپنا گھر بار نہیں چھوڑا۔ ایک ایسی سرزمین جس پر کئی طاقتور ممالک مل کر شب و روز بم برسا رہے ہوں، جہاں کے لوگوں کو پانی، بجلی، ادویات و خوراک تک سے محروم کر دیا گیا ہو، وہ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر جانے کے بجائے اگر اپنے لیڈر کی باتوں پر یقین کرتے ہوئے اپنے گھروں کو نہ چھوڑنے کا اعلان کریں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا عزم و استقلال کس معیار کا ہوگا۔

یہ اسی عزم و استقلال کا ہی نتیجہ ہے کہ فلسطین کے معصوم بچے اپنے ہاتھوں پر اپنا اور اپنے خاندان کا نام لکھ رہے ہیں تاکہ مر جانے کی صورت میں شناخت میں کوئی دشواری نہ ہو، لیکن انہیں یہ بات ہر گز قبول نہیں کہ جیتے جی شکست قبول کریں۔ یہ وہی ہمت و حوصلہ ہے کہ غزہ کی ایک صحافی حنان ابو دغیم کہتی ہیں کہ ہم تمام لوگ ایک ساتھ سوتے ہیں تاکہ اگر رات میں کوئی بم گرے تو ہم سب ایک ساتھ مر جائیں۔ کیا دنیا کا کوئی ترازو، کوئی پیمانہ اس جذبے کو تول سکتا ہے کہ ایک جانب اسرائیل کی جانب سے محفوظ مقام پر چلے جانے کا موقع دیا جا رہا ہے مگر اس موقع کا فائدہ اٹھانے کے بجائے لوگ مرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اہلِ غزہ میں یہ جذبہ کیونکر پیدا ہوا؟ تو اس کا جواب قرآن نے حم السجدہ کی آیت نمبر 30 میں دے دیا ہے کہ ’’بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو، اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ جو قوم مرنے کا عزم کر لے، موت اس سے دور بھاگتی ہے، اور جو موت سے ڈرنے لگتی ہے وہ جیتے جی مر جاتی ہے۔ 7 اکتوبر کو غزہ پر اسرائیل کا حملہ حماس کو ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ شروع ہوا تھا اور آج ایک ماہ بعد حالت یہ ہے کہ غزہ سے اسرائیل کے پے درپے حملے کے باجود اسرائیلی فوج یہ اعلان کرتی ہے کہ ہفتے یعنی سنیچر کو شروع ہونے والے حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 73 ہو گئی ہے، 2315 اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 365 کی حالت تشویشناک ہے۔ حماس کے یہ حملے اس صورت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیلی فوج غزہ کے اندر موجود ہے اور وہ ’آئرن وال‘ نامی ہتھیار کے ذریعے غاروں تک میں حماس کے جانبازوں کو تلاش کرتی گھوم رہی ہے۔ لیکن چونکہ اس طرح کی خبروں سے اسرائیلی کے آئرن ڈوم و آئرن وال کی قلعی کھل جاتی ہے، اس لیے یہ میڈیا سے غائب ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے فضائی و زمینی حملے سے نہ تو حماس کے پائے استقلال میں کوئی تزلزل آیا ہے اور نہ ہی غزہ کے عام لوگوں میں ہی کوئی خوف ہے۔

اہل غزہ کے اس عزم و حوصلے کے سامنے پھر اسرائیلی وزیر ثقافت امیچیائی الیاہو کے اس موقف کی بھلا کیا اہمیت رہ جاتی ہے جس میں وہ غزہ پر جوہری بم سے حملہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے بقول غزہ کا کوئی بھی شہری معصوم نہیں ہے۔ چونکہ نازی ازم ان کی سائیکی کا حصہ بن چکا ہے، اس لیے وہ غزہ کے لوگوں کو نازی تک قرار دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بھلا کون سمجھائے کہ جو لوگ اپنی آزادی کے لیے موت کو گلے لگانے کا تہیہ کر چکے ہیں، جن کے بچے لاؤڈاسپیکر پر انقلابی ترانہ گا کر جشن منا رہے ہوں وہ ان کی گیدر بھبکی سے قطعاً خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ خوفزدہ تو انہیں اور ان کی حکومت کو ہونا چاہئے کہ ایک ماہ کی مسلسل بمباری، فاسفورس بموں سے حملے، زمینی گولہ باری، ضروریات زندگی و کھانے پینے و ادویات سے محرومی کے بعد بھی اہل غزہ کے لوگ نہ صرف ان سے برسرِپیکار ہیں بلکہ ان کے مرنے والوں کی تعداد میں روز بروز تھوڑا تھوڑا اضافہ بھی کرتے جا رہے ہیں۔ موت سے ڈرنے والوں کے لیے یہ تھوڑا اضافہ بھی کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔

(نوٹ: یہ مضمون نگار کی ذاتی رائے ہے، اس سے ’قومی آواز‘ کا متفق ہونا ضروری نہیں)