رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کو جان سے مارنے کی ملی دھمکی، دہلی پولیس میں شکایت درج
کنور دانش علی نے پولیس میں درج کرائی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے کہ کسی نے ان کے دفتر میں فون کر کے جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے، اتنا ہی نہیں اسی نمبر سے ان کے موبائل پر بھی فون کیا گیا تھا۔
نئی دہلی: رکن کنور دانش علی کو جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے خلاف انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ اس کی طلاع انہوں نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دی۔ انہوں نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’کتنا ڈراؤ گے، کل میرے آفس میں فون کرتے ہوئے کسی نے مجھے ڈرانے کی کوشش کی اور مجھے جان سے مار دینے کی دھمکی دی۔ یہ کیسی گھبراہٹ ہے؟ ہندوستان کی جمہوریت میں یقین رکھنے والا تو یہ حرکت نہیں کر سکتا۔ ایسے غیر سماجی عناصر بس یہ چاہتے ہیں کہ میں سچ کو سچ نہ کہوں! یہ تھوڑا مشکل ہے۔‘‘
कितना डराओगे?
— Kunwar Danish Ali (@KDanishAli) February 7, 2024
कल मेरे ऑफिस में फ़ोन कर किसी ने मुझे डराने धमकाने की कोशिश की और मुझे जान से मार देने की धमकी दी!
यह कैसी हताशा है?
भारतीय लोकतंत्र में विश्वास रखने वाला तो यह हरकत नहीं कर सकता। ऐसे असामाजिक तत्व बस इतना चाहते हैं कि मैं सच को सच ना कहूँ! यह थोड़ा मुश्किल है। pic.twitter.com/XCxiGtkBsx
اس دھمکی اور کنور دانش علی کی شکایت سے متعلق پولیس نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’تلک نگر پولیس اسٹیشن میں ممبر آف پارلیمنٹ نے شکایت درج کرائی ہے۔ اس شکایت میں انہوں نے کہا ہے کہ مرکزی دہلی میں واقع ان کے دفتر میں کال کر کے انہیں دھمکی دی گئی ہے۔ کسی نامعلوم شخص نے منگل (6 فروری) کی شام 8 سے 8.30 کے درمیان ان کے آفس میں فون کر کے یہ دھمکی دی ہے۔‘‘
دانش علی کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ فون کرنے والے نے پوچھا کیا یہ دانش علی کا دفتر ہے؟ دانش علی کے پرسنل سکریٹری نے ’ہاں‘ کہا تو اس نے دھمکی آمیز گالیاں دینا شروع کر دیں۔ سکریٹری نے نمبر چیک کیا تو اسی نمبرسے ایک کال کنور دانش علی کے ذاتی موبائل پر بھی کی گئی تھی لیکن میٹنگ میں مصروف رہنے کی وجہ سے انہوں نے وہ کال ریسیو نہیں کیا تھی۔ واضح رہے کہ دانش علی کو حال ہی میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں معطل کر دیا تھا۔