’راجستھان میں بی جے پی ہِٹ وکٹ ہو چکی ہے‘، پرینکا گاندھی کا پی ایم مودی پر حملہ
پرینکا گاندھی نے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم مودی نے اپنے بڑے بڑے لیڈروں کو کنارہ کر دیا ہے، آپس میں منقسم بی جے پی راجستھان کا کبھی بھلا نہیں کر سکتی۔
نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے ’رَن آؤٹ‘ والے بیان پر شدید جوابی حملہ کیا۔ راجستھان کے کیکڑی واقع جہاجپور میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی تو پہلے ہی ہِٹ وکٹ ہو چکی ہے اور راجستھان میں دوبارہ کانگریس کی حکومت بننے جا رہی ہے۔‘‘
कांग्रेस महासचिव श्रीमती @priyankagandhi जी ने राजस्थान के जहाजपुर में विशाल जनसभा को संबोधित किया।
— Congress (@INCIndia) November 20, 2023
राजस्थान में कांग्रेस को जनता का प्यार और आशीर्वाद मिल रहा है। हम यहां प्रचंड बहुमत से एक बार फिर कांग्रेस की सरकार बनाने जा रहे हैं। pic.twitter.com/EIPn1IVeB9
پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راجستھان میں کانگریس لیڈران اور کارکنان متحد ہو کر مضبوطی سے انتخاب لڑ رہے ہیں، جبکہ بی جے پی پوری طرح سے بکھری ہوئی ہے۔ پی ایم مودی نے اپنے بڑے بڑے لیڈران کو کنارے کر دیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ راجستھان میں بی جے پی کی طرف سے وزیر اعلیٰ کون بنے گا۔ حالت یہ ہے کہ پی ایم مودی خود ہی دوربین لے کر بی جے پی کے لیے وزیر اعلیٰ تلاش کر رہے ہیں۔ آپس میں منقسم بی جے پی راجستھان کا بھلا نہیں کر سکتی۔ اسمبلی انتخاب میں کانگریس زبردست اکثریت سے واپسی کرے گی۔
राजस्थान की कांग्रेस सरकार ने किसानों का 15 हजार करोड़ रुपए का कर्ज माफ किया है।
— Congress (@INCIndia) November 20, 2023
कांग्रेस कहती है कि किसानों का कर्ज माफ करेंगे, लेकिन BJP कहती है किसानों का कर्ज माफ करने के लिए पैसे नहीं हैं।
अगर पैसे नहीं हैं तो...
नई संसद भवन बनाने के लिए मोदी सरकार ने 20 हजार करोड़ रुपए… pic.twitter.com/lQYVqlYpfs
پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکمراں مدھیہ پردیش سے کانگریس حکمراں راجستھان کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش میں 18 سال سے بی جے پی حکومت ہے۔ بی جے پی حکومت نے 22 ہزار اعلانات کیے، لیکن 22 بھی پورے نہیں کیے۔ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے ساڑھے تین سال میں صرف 21 روزگار دیے ہیں۔ دوسری طرف راجستھان کی کانگریس حکومت نے محض پانچ سال میں دو لاکھ لوگوں کو روزگار دیا اور ایک لاکھ روزگار دینے کا اعلان کیا۔ مدھیہ پردیش میں سات ہزار سے زیادہ اسکول بند ہو چکے ہیں اور راجستھان میں انگریزی میڈیم اسکول کھولے گئے ہیں۔ راجستھان کی کانگریس حکومت کی ’چرنجیوی یوجنا‘ میں 25 لاکھ روپے تک کا علاج مفت ہوتا ہے اور ایسے منصوبے بی جے پی حکمراں ریاستوں میں موجود نہیں ہیں۔ پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ راجستھان کی کانگریس حکومت نے کسانوں کا 15 ہزار کروڑ روپے کا قرض معاف کیا ہے۔ ایک طرف کانگریس کہتی ہے کہ کسانوں کا قرض معاف کریں گے، دوسری طرف بی جے پی کہتی ہے کہ کسانوں کا قرض معاف کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ پانچ سال میں کانگریس حکومت نے جو کام کیے ہیں، کانگریس اسی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگ رہی ہے۔ کانگریس حکومت کے پاس خواتین، کسان، مزدور، کامگار، طلبا اور چھوٹے کاروباریوں کی مدد کرنے کا ریکارڈ ہے۔
इस बात का ध्यान रखिए कि BJP के नेताओं ने कितनी घोषणाएं की और उनमें से कितनी पूरी हुई।
— Congress (@INCIndia) November 20, 2023
मोदी जी ने ही कहा था- 2 करोड़ नौकरियां देंगे, किसानों की आय दोगुनी होगी, देश आगे बढ़ेगा..
अगर ऐसा है तो BJP की सरकारों में किसान, गरीब, मजदूर, कर्मचारी क्यों परेशान हैं?
: राजस्थान में… pic.twitter.com/avKyM0KCLl
پرینکا گاندھی نے راجستھان کی کانگریس حکومت کے ذریعہ خواتین کے لیے کیے گئے کاموں کو بے مثال قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی مہنگائی کے سبب راجستھان کی کانگریس حکومت کو مہنگائی راحت کیمپ لگانے پڑ رہے ہیں۔ انھوں نے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر راجستھان میں بی جے پی کی حکومت بنی تو وہ موجودہ کانگریس حکومت کے سبھی عوامی فلاحی منصوبوں کو بند کر دے گی۔
मेरे भाइयों-बहनों,
— Congress (@INCIndia) November 20, 2023
सोच लीजिए... यह फैसला आपको लेना है कि जितनी राहत मिल रही है, उसे बंद करना है या चलने देना है।
आज समय आ गया है कि आप अपने अधिकारों की बात करें।
क्योंकि आपकी संपत्ति केंद्र की BJP सरकार और नरेंद्र मोदी जी छीन रहे हैं।
: राजस्थान में @priyankagandhi जी pic.twitter.com/rYne4UAfTE