’دہلی آج دنیا کا سب سے آلودہ شہر بن گیا ہے‘

اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی کاگنریس صدر لولی نے مرکزی اور بی جے پی حکومتوں پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ دونوں کی نا اہلی کی وجہ سے دہلی میں 10 سال تک کے بچوں کی اوسط عمر 12 سال تک کم ہو گئی ہے۔

’دہلی آج دنیا کا سب سے آلودہ شہر بن گیا ہے‘

نئی دہلی: دہلی کانگریس صدر اروندر سنگھ لولی نے دارالحکومت میں مہلک آلودگی اور کمر توڑ مہنگائی کے لئے مرکز اور بی جے پی حکومت کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج دہلی بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے اور مرکزی اور دہلی حکومتیں آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ لولی آج ریاستی دفتر میں منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

پریس کانفرنس میں پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل اے مکیش شرما نے کہا کہ دہلی میں آلودگی کی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر دہلی فائر سروس اور این ڈی ایم سی فائر سروس کو بڑے پیمانے پر پانی چھڑکنے کے کام کے لیے تعینات کیا جانا چاہیے۔

لولی کے علاوہ پریس کانفرنس میں سابق وزیر منگترام سنگھل، ڈاکرکرن والیا، دہلی میونسپل کارپوریشن کے انچارج جتیندر کمار کوچر، کارپوریشن میں پارٹی لیڈر نازیہ دانش، کارپوریشن کونسلر اریبہ خان، شگفتہ چودھری ،حاجی ظریف، سمیر احمد، سبیلہ بیگم کے علاوہ جگجیون شرما موجود تھے۔

اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لولی نے مرکزی اور بی جے پی حکومتوں پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ دونوں حکومتوں کی نا اہلی کی وجہ سے دہلی میں 10 سال تک کے بچوں کی اوسط عمر12 سال تک کم ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی میں ہر تیسرا بچہ دمہ، سانس اور پھیپھڑوں کے امراض وغیرہ میں مبتلا ہے۔ اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ دارالحکومت میں 14000 سے زائد بچے سانس کی تکلیف کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ بار بار دونوں حکومتوں کی سرزنش کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود آلودگی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی میں اے کیو آئی آلودگی کی سطح نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ دہلی میں 42 فیصد آلودگی گاڑیوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس کی سیدھی وجہ یہ ہے کہ حکومت پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

لولی نے کہا کہ آج ہندوستان میں امریکی سفیر راجدھانی میں آلودگی پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دہلی میں کانگریس کے دور حکومت میں اسی امریکہ نے دہلی کو کلین سٹی اور بیٹر سٹی کا ایوارڈ دیا تھا جس کا باضابطہ طور پر دہلی کی اس وقت کی چیف سکریٹری شیلجا چندرا نے استقبال کیا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے دہلی میں ایک ہی جھٹکے میں 9000 سی این جی بسوں کا بیڑا شروع کیا تھا جو کہ موجودہ حکومت کی بے حسی کی وجہ سے آج رن ڈاون بسوں میں تبدیل ہو گئی ہے۔

لولی نے کہا کہ دہلی میں اسموگ ٹاور لگائے گئے تھے لیکن آج وہ بند ہیں جو کہ پوری طرح سے عام لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی کانگریس اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، اس لیے ہم نے دیوالی تک احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے تمام ضلعی صدور اور کانگریس کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ خاص طور پر غریب لوگوں میں ماسک تقسیم کریں اور آلودگی سے بچنے کے اقدامات بھی تجویز کریں۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف پانچویں جماعت تک کے بچوں کو چھٹی دی گئی ہے، کیا بارہویں جماعت تک کے بچے آلودگی سے متاثر نہیںہوتے۔

مکیش شرما نے کہا کہ آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کرو چوتھ کے مقدس تہوار پر دہلی میں دلہنوں نے آسمان پر سیاہ پرت کی وجہ سے چاند 28 منٹ تاخیر سے دیکھا۔ دہلی آج دنیا کا سب سے آلودہ شہر بن گیا ہے۔ ہم دہلی میں نہیں بلکہ گیس چیمبر والے شہر میں رہ رہے ہیں۔

مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیاز کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریب آدمی کی دیوالی خراب کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو پیاز 2022 میں35روپے فی کلو بک رہی تھی آج90 سے 100 روپے میں بک رہی ہے۔

کمرشل سلنڈر کی قیمت میں300 روپے مزید اضافہ کر دیا گیا۔کارپوریشن کی کونسلرز مسز نازیہ دانش، شگفتہ اور اریبہ خان نے دونوں حکومتوں پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ حکومتیں اکتوبر کے مہینے میں وارننگ دیتی ہیں اور پورا سال صرف فوٹو سیشن میں گزار دیتی ہیں۔ تینوں نے یہ بھی کہا کہ آلودگی کے خاتمے کے لیے صرف 40 کروڑ روپے کا بجٹ رکھنا اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ پریس کانفرنس میں لولی، مسٹر مکیش شرما، مسٹر جتیندر کوچر سمیت تمام کارپوریشن کونسلروں نے احتجاجی طور پر ماسک اور پیاز کے ہار پہن رکھے تھے۔ تاہم تمام رہنما ¶ں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر آلودگی اور مہنگائی کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ واضح ر ہے کہ کانگریس 'جواب دو حساب دو‘ مہم چلا رہی ہے اور اسی مہم کے تحت آج یہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔