آنجہانی گلوکاروں کی آواز ’ری کریئٹ‘ کرنے پر تنقید کا شکار بنے اے آر رحمن نے سچائی سے اٹھایا پردہ
رجنی کانت کی فلم ’لال سلام‘ میں ایک گانے کو ری کریئٹ کرنے پر مشہور گلوکار اے آر رحمان سوشل میڈیا صارفین کے نشانے پر آگئے، انہوں نے اس پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے تنقید کرنے والوں کو خاموش کر دیا۔
چنئی: فلموں کی مشہور سنگر اور کمپوزر اے آر رحمان نے اپنے تازہ گانے Thimri Yezhuda سے متعلق اپنا موقف پیش کیا ہے۔ دراصل حال ہی میں اے آر رحمان نے آرٹیفشیل انٹلی جنس (مصنوعی ذہانت) کا استعمال کرتے ہوئے اس گانے کے آنجہانی گلوکاروں کی آواز کو ری کریئٹ کیا تھا، جس کی وجہ سے کچھ لوگوں ان سے ناراض ہوگے۔ اب اے آر رحمان نے اپنی وضاحت پیش کرے ہوئے سچائی سے پردہ اٹھایا ہے۔
جنوبی ہند کی فلموں کے سوپر اسٹار کہے جانے والے رجنی کانت کی آنے والی فلم ’لال سلام‘ میں ایک گانا ہے Thimri Yezhuda جس پر یہ تنازعہ ہوا ہے۔ گانے کے لیے اے آئی کی مدد سے آنجہانی گلوکار بانبا واکیا اور شاہل حمید کی آواز کو ری کریئٹ کیا گیا ہے۔ ان گلوکاروں کی آواز کو ری کریئٹ کرنے پر کافی ٹرول ہونا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا پر انہیں کافی کھری کھوٹی سنائی جا رہی ہیں۔ اس درمیان انہوں نے سچائی پیش کرتے ہوئے تمام ٹرولس کو خاموش کردیا۔ اے آر رحمان نے کہا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے، اجازت کے ساتھ کیا ہے۔ اے آر رحمان نے اپنا یہ جواب ’ایکس‘ پر 29 جنوری کو پوسٹ کیا ہے۔
اے آر رحمان نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’گانے کو ری کریئٹ کرنے سے پہلے انہوں نے آنجہانی گلاکاروں کے اہلِ خانہ سے اس کی اجازت لی تھی اور اسی کے مطابق انہیں ادائیگی بھی کی گئی تھی۔‘‘ اے آر رحمان نے کہا کہ ’’اگر ٹیکنالوجی کا استعمال صحیح طریقے سے ہو تو یہ نقصاندہ نہیں ہوتی ہے۔‘‘ اے آر رحمان کا ’ایکس‘ پر کیا گیا یہ پوسٹ اب سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔
We took permission from their families and sent deserving remuneration for using their voice algorithms ..technology is not a threat and a nuisance if we use it right…#respect #nostalgia https://t.co/X2TpRoGT3l
— A.R.Rahman (@arrahman) January 29, 2024
واضح ہو کہ سوشل میڈیا پر جہاں کچھ صارفین اے آئی کی مدد سے آنجہانی گلوکاروں کی آوازوں کو ری کریئٹ کرنے پر اے آر رحمان کی تعریف کررہے ہیں تو وہیں کچھ لوگ انہیں برا بھلا بھی بول رہے ہیں۔ تعریف کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اے آر رحمان نے ان فنکاروں کو جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں، ان کی آواز کو دوبارہ زندگی دینے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ ٹرولس کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں (اے آر رحمان) نے آنجہانی گلوکاروں کی توہین کی ہے اور یہ مستقبل کے گلوکاروں کے لیے ایک رکاوٹ بھی ہے۔ ‘‘ لیکن اے آر رحمان کے ’ایکس‘ پر دیئے گئے جواب سے اب ان ٹرولس کرنے والوں کی آوازیں بھی خاموش ہو گئی ہیں۔