امریکی صدر ٹرمپ کے قتل کی سازش کرنے والا ایک شخص وائٹ ہاؤس کے قریب اسلحے کے ساتھ گرفتار
ملزم نے مبینہ طور پر اہلکاروں کو بتایا کہ اس کے دماغ میں آوازیں آ رہی تھیں، جو اسے واشنگٹن جا کر صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کے لیے کہہ رہی تھیں۔
امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش رچنے کے الزام میں وینزویلا کے ایک شہری کو گرفتار کیا گیا ہے۔ امریکی سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے جمعرات کی رات اسے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک کار میں پکڑا۔ تلاشی کے دوران اس کی کار سے 3 بندوقیں اور درجنوں کارتوس برآمد ہوئے۔ ملزم نے مبینہ طور پر اہلکاروں کو بتایا کہ اس کے دماغ میں آوازیں آ رہی تھیں، جو اسے واشنگٹن جا کر صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کے لیے کہہ رہی تھیں۔
امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکورٹی (ڈی ایچ ایس) کے مطابق جمعرات کی رات سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے وائٹ ہاؤس کے قریب کھڑی ایک کار میں ایک شخص کو مشتبہ حالت میں دیکھا۔ اس کے بعد اہلکار اس کے پاس پہنچے اور پوچھ تاچھ کی۔ ملزم کی شناخت رونی یورڈریکس گوانیپا کرینوس کے طور پر ہوئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق پوچھ تاچھ کے دوران ملزم نے بتایا کہ اس کے دماغ میں کچھ آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ یہ آوازیں اسے امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن آنے اور ریپبلکن پارٹی کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے لیے کہہ رہی تھیں۔
اہلکاروں نے اس کی کار کی تلاشی لی۔ جانچ کے دوران پتہ چلا کہ کار چوری کی تھی اور چوری کی شکایت پہلے ہی درج کرائی جا چکی تھی۔ کار سے 3 مختلف اقسام کی بندوقیں اور بڑی تعداد میں کارتوس برآمد ہوئے۔ اس کے بعد اہلکاروں نے اسے گرفتار کر لیا۔ ڈی ایچ ایس نے بتایا کہ ملزم کا تعلق وینزویلا سے ہے اور وہ امریکہ میں بغیر قانونی اجازت کے رہ رہا تھا۔ وہ مارچ 2024 میں ٹیکساس کے راستے امریکہ میں داخل ہوا تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ فی الحال وہ امریکی مارشل سروس کی تحویل میں ہے۔
اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اس نے اس بارے میں معلومات کے لیے ڈی ایچ ایس اور امریکی سیکریٹ سروس سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔ گزشتہ سال ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ نہیں ہے۔ سیکریٹ سروس اور امریکہ کی دیگر ایجنسیاں ٹرمپ اور ان کے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والے کئی افراد کو گرفتار کر چکی ہیں۔