کیجریوال کی گرفتاری سے متعلق ای ڈی کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ، کہا- گرفتاری قانون کے مطابق
ای ڈی کے مطابق اروند کیجریوال کی گرفتاری کسی عصبیت کی و جہ سے نہیں بلکہ قانون کے تحت ہوئی ہے۔ ہم نے کیجریوال کو اس معاملے میں تفتیش کے لیے 9 سمن بھیجے تھے لیکن وہ ایک میں بھی حاضر نہیں ہوئے۔
دہلی آبکاری پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں اروند کیجریوال کی گرفتاری کے تعلق سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آج (25 اپریل) سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کیجریوال کی گرفتاری قانون کے مطابق ہے، ہم نے انہیں 9 مرتبہ سمن بھیجا تھا اور یہ کہ وہ تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے ہیں۔
ای ڈی نے سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے اروند کیجریوال کی گرفتاری کسی عصبیت کی و جہ سے نہیں بلکہ قانون کے تحت ہوئی ہے۔ ہم نے کیجریوال کو اس معاملے میں تفتیش کے لیے 9 سمن بھیجے تھے لیکن وہ ایک میں بھی حاضر نہیں ہوئے۔ کیجریوال منی لانڈرنگ کے مجرم ہیں۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے مزید کہا کہ کیجریوال کو کسی بدنیتی کے تحت گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔ کسی لیڈر کے ساتھ کسی دوسرے مجرم سے مختلف سلوک کرنا آئین کے تحت نہیں ہے۔
Delhi liquor policy case: Enforcement Directorate (ED) has filed an affidavit in the Supreme Court opposing Delhi CM Arvind Kejriwal's plea against his arrest, saying he did not cooperate with the Central agency despite multiple summons issued to him.
— ANI (@ANI) April 25, 2024
Arvind Kejriwal was… pic.twitter.com/N6rnxulIBd
ای ڈی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ جب وہ پی ایم ایل اے کی دفعہ 17 کے تحت کیجریوال کا بیان ریکارڈ کر رہے تھے، اس دوران بھی وہ ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دے رہے تھے۔ واضح رہے کہ کیجریوال نے ایکسائز پالیسی کیس میں اپنی گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن ہائی کورٹ سے انہیں راحت نہیں ملی تھی۔ اس کے بعد کیجریوال نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی جس پر سپریم کورٹ نے ای ڈی کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ای ڈی کا یہ حلف نامہ اسی کے تحت ہے۔ کیجریوال کو ای ڈی نے 21 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔