کویت کو سیاسی بحران کا سامنا، پارلیمنٹ تحلیل اور آئین معطل کرنے کا اعلان
کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد نے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے اور آئین کے کچھ حصوں کو 4 سال سے زیادہ کے لیے معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، ساتھ ہی کچھ سرکاری محکموں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
خلیجی ملک کویت میں ایک بڑا سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الصباح نے ایک حیرت انگیز قدم اٹھاتے ہوئے جمعہ کے روز ملک کی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کویت کے امیر نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے بعد کچھ سرکاری محکموں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، شیخ مشعل الاحمد نے ملک کے کچھ قوانین کو بھی معطل کر دیا ہے۔
کویتی نیوز ایجنسی ’کونا‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی یعنی پارلیمنٹ تحلیل کرنے اور آئین کے کچھ حصوں کو 4 سال سے زیادہ کے لیے معطل کرنے سے متعلق امیر نے حکم جاری کیا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ امیر شیخ مشعل الاحمد الصباح قومی اسمبلی کو اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کویت کے امیر سرکاری ٹی وی پر عوام سے خطاب کر رہے ہیں۔ اپنے خطاب میں انھوں نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’کویت برے وقت سے گزر رہا ہے، جس کی وجہ سے کنگڈم کو بچانے اور ملکی مفادات کی حفاظت کرنے کے لیے سخت فیصلہ لینے میں جھجک یا تاخیر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں ملک کے کئی شعبوں میں بدعنوانی بڑھ گئی ہے۔ اس بدعنوانی کی وجہ سے ملک کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بدعنوانی سیکورٹی اور معاشی اداروں تک پھیل گئی ہے۔ شیخ مشعل الاحمد نے اپنے خطاب میں عدالتی نظام میں بھی بدعنوانی کی بات کہی ہے۔
Kuwait's Emir Sheikh Meshal al-Ahmad al-Sabah dissolves parliament, citing political deadlock and corruption.
— thehardnewsdaily (@TheHardNewsD) May 11, 2024
The move, which also suspends key constitutional articles for up to 4 years, raises concerns about political freedoms in the region. #KuwaitPolitics #MiddleEastn pic.twitter.com/VCAnJYn4jg
واضح رہے کہ کویت گزشتہ کچھ سالوں سے گھریلو سیاسی تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کا ویلفیئر سسٹم اس بحران کا ایک اہم ایشو رہا ہے اور اس نے حکومت کو قرض لینے سے روکا ہے۔ اس کی وجہ سے اپنے تیل ذخیرہ سے زبردست منافع کے باوجود سرکاری خزانے میں پبلک سیکٹر کے ملازمین کو تنخواہ دینے کے لیے بہت کم پیسے بچے ہیں۔