مسلمانوں کے تعلق سے کرناٹک حکومت کا اہم فیصلہ، او بی سی زمرے میں شامل
کرناٹک کی کانگریس حکومت نے ریزرویشن کے فوائد میں مسلمانوں کو شامل کرنے کے لیے انہیں او بی سی میں شامل کیا ہے۔ اس کی اطلاع نیشنل بیک ورڈ کمیشن نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے دی ہے۔
کرناٹک کی کانگریس حکومت نے ریاست کے مسلمانوں کے تعلق سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے انہیں او بی سی زمرے میں شامل کیا ہے۔ قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات نے اس تعلق سے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اس کی اطلاع دی ہے۔ کمیشن کے مطابق کرناٹک کے مسلمانوں کوزمرہ بی-2 کے تحت او بی سی مانا گیا ہے۔ کمیشن نے اس کا سرکیولر بھی جاری کردیا ہے۔
نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ نے اس تعلق سے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کرناٹک حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، کرناٹک کے مسلمانوں کی تمام ذاتوں اور برادریوں کو ریاستی کانگریس کی حکومت کے تحت ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے لیے او بی سی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
As per the data from Karnataka government, all castes and communities of Muslims of Karnataka have been included in the list of OBCs for reservation in employment and educational institutions under the state govt. Under Category II-B, all Muslims of Karnataka state have been… pic.twitter.com/eh1IYF3FX0
— ANI (@ANI) April 24, 2024
نیشنل کمیشن فار بیک ورڈ کلاسس کے صدر ہنس راج گنگا رام اہیر کے مطابق کرناٹک حکومت کے زیر کنٹرول ملازمتوں اور تعلیمی اداروں کے داخلہ میں ریزرویشن کے لیے کرناٹک کے تمام مسلمانوں کو او بی سی کی ریاستی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ کرناٹک میں مسلمانوں کی آبادی 12.92 فیصد ہے۔ کرناٹک میں مسلمانوں کی مذہبی اقلیت مانا جاتا ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق کرناٹک میں مسلمانوں کی شرح 12.32 فیصد ہے۔