شرد پوار نے اپنی پارٹی کو دیا نیا نام ’این سی پی- شرد چندر پوار‘، الیکشن کمیشن کی ملی منظوری

شرد پوار گروپ نے 3 نام اور 3 انتخابی نشان تجویز کیے تھے جن میں سے ’این سی پی- شرد چندر پوار‘ نام تو الاٹ ہو گیا، لیکن انتخابی نشان کا فیصلہ فی الحال نہیں ہو سکا ہے۔

شرد پوار نے اپنی پارٹی کو دیا نیا نام ’این سی پی- شرد چندر پوار‘، الیکشن کمیشن کی ملی منظوری

ممبئی: این سی پی شرد پوار گروپ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نیا نام مل گیا ہے۔ یہ نام ’نیشنلسٹ کانگریس پارٹی – شرد چندر پوار‘ ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بدھ (7فروری) کی شام 4 بجے تک نئے نام دیئے جانے کے لیے کہا گیا تھا، جس کے بعد شرد پوار گروپ نے تین نام دیئے تھے، جن میں مذکورہ بالا نام کو الیکشن کمیشن نے منظوری دی ہے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے شرد پوار گروپ سے نئے انتخابی نشان بھی تجویز کرنے کے لیے کہا تھا، جس کے لے ’چائے کا کپ‘، ’سورج مکھی  کا پھول‘ اور ’چڑھتا سورج‘ تجویز کیا گیا تھا لیکن انتخابی نشان کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ اس بارے میں الیکشن کمیشن نے جلد فیصلہ لینے کے لیے کہا ہے۔ ان انتخابی نشانیوں کے علاوہ شرد پوار گروپ ’برگد کا درخت‘ لینا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اجیت پوار گروپ کو اصل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) قرار دینے اور اس کا انتخابی نشان ’گھڑی‘ الاٹ کرنے کے بعد شرد پوار گروپ کو  یہ نیا نام ملا ہے۔ شرد پوار گروپ نے الیکشن کمیشن کو جو 3 نام بھیجے تھے ان میں ’نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد پوار‘، ’نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار‘ اور ’نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد راؤ پوار‘ شامل تھا۔ اسی کے ساتھ  انتخابی نشانی طور پر ’چائے کا کپ‘، ’سورج مکھی  کا پھول‘ اور ’چڑھتا سورج‘ تجویز کیاتھا، لیکن انتخابی نشانی کے الاٹ کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ایک طرف اجیت پوار کے کیمپ جشن کا ماحول ہے تو دوسری طرف شرد پوار کا گروپ احتجاج کر رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بدھ کو پونے اور آس پاس کے علاقوں میں شرد پوار کے حامیوں نے سیاہ ربن باندھ کر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔ واضح رہے کہ شرد پوار نے 1999 میں این سی پی کی بنیاد رکھی تھی۔ گزشتہ سال جولائی میں شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار نے پارٹی کے 8 ایم ایل ایز کے ساتھ ایکناتھ شندے کی قیادت والی حکومت میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔