سابق مرکزی وزیر سوامی چنمیانند شاگردہ سے عصمت دری کیس میں باعزت بری
سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ شاگردہ سے عصمت دری معاملے میں سوامی چنمیانند کے خلاف ثبوت کی کمی تھی جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے انھیں بے قصور قرار دیا گیا۔
سابق مرکزی وزیر سوامی چنمیانند کو اپنی شاگردہ سے زنا معاملے میں آج ایم پی-ایم ایل اے کورٹ سے بڑی راحت ملی۔ یکم فروری کو عدالت نے انھیں عصمت دری معاملہ میں باعزت بری کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ 13 سال قبل سوامی چنمیانند کی ایک شاگردہ نے ان پر عصمت دری کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس معاملے میں سابق مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ سوامی چنمیانند کو ہائی کورٹ سے اسٹے ملا ہوا تھا۔
UP: Former Union Minister Chinmayanand acquitted in the case of rape of a student, MPMLA court acquitted him. pic.twitter.com/x4ngaxMq7x
— Muhammad Zubair ᴾᵃʳᵒᵈʸ (@MhdZubair_) February 1, 2024
فریق دفاع کے وکیل نے سوامی چنمیانند پر ان کی شاگردہ کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کو سازش سے متاثر اور جھٹ پر مبنی بتایا تھا۔ اس پر شاہجہاں پور کے ایم اپی-ایم ایل اے کورٹ میں ٹرائل چلا، لیکن اب اس معاملے میں عدالت نے انھیں بے قصور قرار دیا ہے۔ سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ سوامی چنمیانند کے خلاف ثبوت کی کمی کے سبب انھیں بری کرنے کا فیصلہ سنایا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2019 میں بھی سوامی چنمیانند کے لاء کالج کی ایک طالبہ نے ان کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس مقدمہ میں بھی انھیں بے قصور قرار دیا جا چکا ہے۔
واضح رہے کہ سوامی چنمیانند کے آشرم کی ایک شاگردہ نے 13 سال قبل ان پر زنا کرنے کا الزام لگایا تھا۔ چوک کوتوالی میں ان کی شاگردہ نے یہ مقدمہ درج کرایا تھا جس میں سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ سوامی چنمیانند کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ شاہجہاں پور کے ایم پی-ایم ایل اے کورٹ میں چل رہا تھا۔ یہاں سے ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری ہوا تھا۔ گرفتاری کے خوف سے چنمیانند فرار بھی ہوئے تھے جس کے بعد کورٹ نے انھیں بھگوڑا قرار دے دیا تھا۔
Remember Chinmayanand ??
— Avishek Goyal (@AG_knocks) February 1, 2024
He has been acquitted in the high profile rape case whose video of getting naked massage broke the internet some time ago.
He dissapeared for a while after video went viral, used his power & forced the victim student to retract her statement.
Anyway,… pic.twitter.com/9M9pWG4Rnh
قابل ذکر ہے کہ اس عصمت دری معاملے میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کیس ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم کے بعد الزام لگانے والی شاگردہ نے صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر مداخلت کرنے کی بات کہی تھی۔ حالانکہ اب تو چنمیانند کو عدالت کی طرف سے بے قصور ہی قرار دے دیا گیا ہے۔ چنمیانند پہلی بار اتر پردیش کی بدایوں لوک سبھا سیٹ سے 1991 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے۔ 1999 میں جونپور لوک سبھا سیٹ سے انتخاب جیت کر وہ اُس وقت کی اٹل بہاری واجپئی حکومت میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنے تھے۔