’جمہوریت کی دھجیاں اڑا کر نئے قانون بنا رہا مرکز‘، کیرالہ میں مودی حکومت پر برسیں پرینکا گاندھی
پرینکا گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی اور ان کے ساتھی لیڈران تکبر میں مبتلا ہیں، وہ اس ہندوستانی آئین کو بدلنے کی بات کرتے ہیں جو ہمارے مجاہدین آزادی اور شہیدوں کے خون سے لکھا گیا ہے۔
لوک سبھا انتخاب کے پیش نظر پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہو چکی ہے، اور اب دوسرے مرحلے کے لیے 26 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ سبھی پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران زور و شور کے ساتھ انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ کانگریس کے بڑے لیڈران بھی ملک کی مختلف ریاستوں میں ریلیاں، روڈ شوز اور انتخابی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی آج کیرالہ میں ہیں جہاں چلاکوڈی لوک سبھا سیٹ پر کانگریس امیدوار بینی بیہنن کی حمایت میں انھوں نے انتخابی مہم چلائی۔ اس دوران انھوں نے مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
"We're fighting to protect the soul of our great nation".
— Congress (@INCIndia) April 20, 2024
Chalakudy, Kerala pic.twitter.com/S4E6ddQff5
چلاکوڈی میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’کچھ لوگ نئے ہندوستان کی تعمیر سے متعلق بات کہہ رہے ہیں۔ بی جے پی کے اس نئے ہندوستان میں کیا ہوگا، وہ سبھی سمجھ رہے ہیں۔ بی جے پی کے نئے ہندوستان کا حال یہ ہے کہ منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ کرائی جاتی ہے اور حکومت اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ عصمت دری کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اولمپک تمغہ جیتنے والی خاتون کھلاڑی گڑگڑاتی ہیں لیکن ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے کا وزیر اعظم دفاع کرتے ہیں۔ وزیر اعظم جو پالیسیاں بناتے ہیں، وہ اپنے اجارہ دار دوستوں کے لیے بناتے ہیں۔ عوامی اثاثے وزیر اعظم اپنے ارب پتی دوستوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ کسان خودکشی کے لیے مجبور ہیں۔ شرح بے روزگاری 45 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ یہ ہے نیا ہندوستان، جسے آج ہم قبول کر رہے ہیں!‘‘
In the BJP's 'New India',
— Congress (@INCIndia) April 20, 2024
- women are paraded naked in Manipur, but the govt refuses to act
- rapists are protected
- Olympic medalists beg to be heard, while their abuser is defended by the PM
- policies are made for the PM's monopolist friends
- public assets are handed to… pic.twitter.com/ttTdMhgGKa
پرینکا گاندھی نے مودی حکومت کی کارگزاریوں اور پالیسیوں کو عوام مخالف قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس حکومت کو ملک مخالف بھی بتایا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی جمہوری طریقہ کار کو درکنار کر قانون بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ نئے قانون بنانے کے لیے جمہوریت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی ہندوستانی آئین کو کاغذ کا ایک ٹکڑا تصور کرتی ہے۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، عوام کی خواہش کے بالکل خلاف ہے۔ پرینکا گاندھی نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’پی ایم مودی اور ان کے ساتھ لیڈران تکبر میں مبتلا ہیں اور اس ہندوستانی آئین کو بدلنے کی بات کرتے ہیں جو ہمارے مجاہدین آزادی اور شہیدوں کے خون سے لکھا گیا ہے۔‘‘
There is a great battle taking place between those who are trying to divide the people of India to fulfill their own greed and those who are urging them to unite and take the power back into their hands.
— Congress (@INCIndia) April 20, 2024
This election is not a mere election. It is a fight to protect the soul of… pic.twitter.com/knElWN7A48
پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ہمیں جس ’نئے ہندوستان‘ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے، وہ ایسا ہندوستان ہے جہاں کچھ طاقتور لوگ مذہب پر اپنا دعویٰ کرتے ہیں اور جمہوری عمل کو درکنار کر قانون بنائے جا رہے ہیں۔ اس لیے عام انتخاب بہت اہم ہے، یہ عوام کے لیے ایک ایسا ذریعہ ہے جو بری طاقتوں کو برسراقتدر ہونے سے روک سکتا ہے۔