جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے حوصلے پھر بلند، پولیس جوان کا گولی مار کر قتل
جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے حوصلے ایک بار پھر بلند ہوتے نظر آ رہے ہیں، تازہ حملہ گزشتہ تین دنوں میں تیسرا حملہ ہے جس میں 2 لوگوں کی جان جا چکی ہے اور ایک انسپکٹر سنگین طور پر زخمی ہے۔
جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں منگل کو دہشت گردوں نے ایک پولیس ہیڈ کانسٹیبل کا گولی مار کر قتل کر دیا۔ شہید ہیڈ کانسٹیبل کی شناخت غلام محمد ڈار کی شکل میں ہوئی ہے۔ اس شورش پسندانہ عمل کے بعد کثیر تعداد میں سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیر لیا ہے اور تلاشی مہم شروع کر دی گئی ہے۔
STORY | Jammu and Kashmir: Police head constable shot dead by terrorists in Baramulla. Visuals from the spot.
— Press Trust of India (@PTI_News) October 31, 2023
READ: https://t.co/15XyE3MwV2
VIDEO: pic.twitter.com/fKFrsUGYct
موصولہ اطلاع کے مطابق جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں پی سی آر میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد ڈار کو تنگمرگ علاقے میں ان کی رہائش کے باہر ہی گولی ماری گئی۔ محمد ڈار کو گولی لگنے کے بعد علاقے میں ہنگامہ مچ گیا۔ فیملی اور آس پاس کے لوگ علاج کے لیے ان کو اسپتال لے کر بھاگے، لیکن انھیں بچایا نہیں جا سکا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ پچھلے تین دنوں کی ہی بات کی جائے تو تازہ حملہ تیسرا واقعہ ہے۔ ان حملوں میں دو لوگوں کی جان جا چکی ہے، جبکہ ایک انسپکٹر سنگین طور پر زخمی ہے۔ ایک دن قبل یعنی پیر کے روز پلوامہ میں دہشت گردوں نے اتر پردیش کے ایک مزدور کا گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ اتوار کے روز بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا جب سری نگر شہر کے عیدگاہ علاقے میں دہشت گردوں نے ایک پولیس انسپکٹر مسرور احمد وانی کو گھر کے پاس ایک کھیل کے میدان میں گولی مار دی تھی۔ وہ گولی لگنے سے سنگین طور پر زخمی ہوئے تھے۔ اب بھی وہ اسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان جنگ لڑ رہے ہیں۔