’این سی پی پر فیصلہ کے پیچھے غیر مرئی طاقتیں، ہم لڑیں گے، سپریم کورٹ جائیں گے‘، سپریا سولے کا عزم
شرد پوار کی بیٹی سرپا سولے کا کہنا ہے کہ ’’مجھے لگتا ہے جو کچھ شیوسینا کے ساتھ ہوا وہی آج ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، بس نام بدل دیے گئے ہیں لیکن مواد وہی ہے۔‘‘
این سی پی (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی) کو لے کر جاری لڑائی میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ اجیت پوار کے حق میں سنا دیا ہے۔ اس کے بعد سے شرد پوار کا خیمہ کافی ناراض ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ لڑائی اب جلد ہی عدالت میں دیکھنے کو ملے گی۔ دراصل شرد پوار کی بیٹی اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے اس معاملے میں سپریم کورٹ جانے کا واضح اشارہ دے دیا ہے۔
#WATCH | Delhi | On Ajit Pawar getting the NCP name and symbol, Sharad Pawar's daughter and MP Supriya Sule says, "...Our documents were fine. Founder member and founder leader of this party is only Sharad Pawar...But now the atmosphere is something else right now. There is an… pic.twitter.com/fGjAZD8Mih
— ANI (@ANI) February 6, 2024
اجیت پوار کو این سی پی کا نام اور انتخابی نشان ملنے کے بعد سپریا سولے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے دستاویز ٹھیک تھے۔ اس پارٹی کے بانی رکن اور بانی لیڈر شرد پوار ہی ہیں۔ لیکن ابھی ماحول کچھ اور ہے۔ ملک میں ایک ’غیر مرئی طاقت‘ (نظر نہ آنے والی طاقت) ہے جو یہ سب کر رہی ہے۔ ہم اس کے خلاف لڑیں گے، ہم سپریم کورٹ ضرور جائیں گے۔‘‘ سپریا یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’مجھے لگتا ہے جو کچھ شیوسینا کے ساتھ ہوا، وہی آج ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس لیے یہ کوئی نیا حکم نہیں ہے۔ بس نام بدل گئے ہیں لیکن مواد وہی ہے۔‘‘
#WATCH | Delhi | On Ajit Pawar getting the NCP name and symbol, Sharad Pawar's daughter and MP Supriya Sule says, "...I think what happened with Shiv Sena is what is happening with us today. So, this is not a new order. Just the names have been changed but the content is the… pic.twitter.com/fGq8I0AgpW
— ANI (@ANI) February 6, 2024
ملک کے موجودہ حالات اور سیاست کے بدلے ہوئے انداز کا تذکرہ بھی سپریا سولے نے میڈیا کے سامنے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس ملک میں جو توڑ-مروڑ کی سیاست چل رہی ہے، وہ آئین سے پرے ہے۔ جو ہو رہا ہے وہ جمہوریت کے لیے اچھا نہیں۔ اس حکومت کے ذریعہ آئی سی ای– انکم ٹیکس، سی بی آئی، ای ڈی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور پارٹیوں و کنبوں کو توڑا جا رہا ہے۔ یہ اس ملک میں ایک چلن بن گیا ہے، اس کے خلاف لڑنا ہوگا۔‘‘