اہم خبریں LIVE: ہریانہ کی نائب سنگھ سینی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل

ہریانہ کی نائب سنگھ سینی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصلمنوہر لال کھٹر کے استعفی دینے کے بعد ہریانہ کے نئے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھانے والے بی جے پی لیڈر نائب سنگھ سینی نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ اسمبلی میں اسپیکر نے اعلان کیا کہ ارکان اسمبلی کی اکثریت نے نئی حکومت پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ دریں اثنا، خفیہ ووٹنگ کے مطالبہ کو اسپیکر نے نامنظور کر دیا۔CM Nayab Singh Saini-led Haryana Government wins the Floor Test in the State Assembly. pic.twitter.com/VTpNYqzQ61— ANI (@ANI) March 13, 2024 کانگریس کے صدر ملکا رجن کھڑے نے کیا خواتین کے لیے ‘ناری نیائے‘ گارنٹی کا اعلانملک کے تمام طقبات کے لیے ’نیائے‘ (انصاف) کے اعلانات کے درمیان کانگریس نے خواتین کے لیے ’ناری نیائے گارنٹی‘ کااعلان کیا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے ’ایکس‘ پر  پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’کانگریس پارٹی آج ’ناری نیائے‘ گارنٹی کا اعلان کرتی ہے، اس کے تحت کانگریس پارٹی ملک میں خواتین کے لیے ایک نیا ایجنڈا طے کرنے جا رہی ہے۔ کانگریس کے قومی صدر نے مزید کہا ہے کہ ’’اس سے قبل ہم ’حصہ داری نیائے‘، ’کسان نیائے‘ اور ’یووا نیائے‘ کا اعلان کر چکے ہیں اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہماری گارنٹی کھوکھلے وعدوں اور جملے نہیں ہوتے ہیں۔ ہمارا کہا پتھر کی لکییر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’1926 سے اب تک ہمارا یہ ریکارڈ ہے جب ہمارے مخالفین پیدا ہو رہے تھے تب سے ہم منشور بنا رہے ہیں اور ان اعلانات کو پورا کر رہے ہیں۔ آپ سب اپنا  تعاون  کانگریس پارٹی کو دیتے رہئے اور جمہوریت و آئین کے تحفظ کی اس لڑائی میں ہمارا ہاتھ مضبوط کیجئے۔‘‘سی اے اے کے تحت سرکاری پیسے پر پاکستانیوں کو لاکر یہاں بسایا جائے گا: کیجریوال مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کو نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون نافذ ہو گیا ہے۔ لیکن اس قانون کے نفاذ پر تمام اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی اس کے خلاف سخت بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ اس قانون کے تحت سرکاری پیسے پر پاکستانی لوگوں کو ہندوستان میں بسایا جائے گا۔ کیجریوال نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ’’پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں تقریباً 2.5 سے 3 کروڑ اقلیتیں رہتی ہیں۔ ایک بار جب ہندوستان اپنے دروازے کھول دے گا تو ان ممالک سے لوگ بڑے پیمانے پر ہندوستان آئیں گے۔ کیا ہم ان مہاجرین کو روزگار دیں گے؟ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ بینک کی سیاست کا حصہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’آخر یہ سی اے اے کیا ہے؟ مرکز کی بی جے پی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر تینوں ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی اقلیتیں ہندوستانی شہریت لینا چاہتی ہیں تو انہیں شہریت دی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان ممالک سے بڑی تعداد میں اقلیتوں کو ہمارے ملک میں لایا جائے گا۔ انہیں روزگار دیا جائے گا، ان کے لیے گھر بنائے جائیں گے، انہیں یہیں آباد کیا جائے گا۔‘‘ہریانہ اسمبلی میں آج فلور ٹیسٹ، نائب سنگھ سینی نے کیا 48 ارکان اسمبلی کی حمایت کا دعویٰہریانہ کے نئے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے آج اسمبلی کا ایک روزہ خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ یہ ایک روزہ خصوصی اجلاس آج صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے۔ اس میں وہ اپنی حکومت کی اکثریت ثابت کریں گے۔ اس اجلاس میں اسمبلی کے نئے اسپیکر کا انتخاب بھی ہو سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت نائب سنگھ سینی حکومت کے پاس اکثریت ہے۔ ان کی حکومت کو 48 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے، جب کہ اکثریت کے لیے مطلوبہ تعداد 46 ہے۔ واضح رہے کہ منگل (13 مارچ) کو ہریانہ میں جے جے پی کے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دینے سے منوہر لال اور ان کی پوری کابینہ نے منگل کو ایک ساتھ استعفیٰ دے دیا تھا۔ استعفیٰ دینے کے بعد بی جے پی نے دوبارہ آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت سے حکومت بنائی۔ نائب سینی نے ہریانہ کے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیا اور ان کے ساتھ 5 ارکان اسمبلی نے بھی وزیر کے طور پر حلف لیا۔انتخاب سے قبل پولرائزیشن کو بوسٹر ڈوز دینے کے لیے لایا گیا سی اے اے، جئے رام رمیشکانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے سی اے اے کے حوالے سے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں عوام کے ساتھ سخت ناانصافی ہوئی ہے۔ پی ایم مودی کے پاس اس الیکشن میں ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے پولرائزیشن۔ سی اے اے چار سال تین مہینے بعد لایا گیا ہے۔ اب جب الیکشن میں ایک مہینہ باقی ہے تو اس کا استعمال پولرائزیشن کو بوسٹر ڈوز دینے کے لیے کیا جائے گا۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ تمل ناڈو اور مغربی بنگال کی حکومتوں نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے (وہ اپنی اپنی ریاستوں میں سی اے اے کو نافذ نہیں کریں گے)۔ ہم بھی سی اے اے کے بھی خلاف تھے  کیونکہ اس کے ذریعے مذہب کی بنیاد پر شہریت دی جائے گی اور یہ بات آئین کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ انہیں (مودی حکومت کو)اسے لاگو کرنے میں چار سال تین ماہ کیوں لگے؟ وہ اس لیے کہ یہ اس کے ذریعے انتخابات سے قبل پولرائزیشن کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔

اہم خبریں LIVE: ہریانہ کی نائب سنگھ سینی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل

ہریانہ کی نائب سنگھ سینی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل

منوہر لال کھٹر کے استعفی دینے کے بعد ہریانہ کے نئے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھانے والے بی جے پی لیڈر نائب سنگھ سینی نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ اسمبلی میں اسپیکر نے اعلان کیا کہ ارکان اسمبلی کی اکثریت نے نئی حکومت پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ دریں اثنا، خفیہ ووٹنگ کے مطالبہ کو اسپیکر نے نامنظور کر دیا۔

کانگریس کے صدر ملکا رجن کھڑے نے کیا خواتین کے لیے ‘ناری نیائے‘ گارنٹی کا اعلان

ملک کے تمام طقبات کے لیے ’نیائے‘ (انصاف) کے اعلانات کے درمیان کانگریس نے خواتین کے لیے ’ناری نیائے گارنٹی‘ کااعلان کیا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے ’ایکس‘ پر  پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’کانگریس پارٹی آج ’ناری نیائے‘ گارنٹی کا اعلان کرتی ہے، اس کے تحت کانگریس پارٹی ملک میں خواتین کے لیے ایک نیا ایجنڈا طے کرنے جا رہی ہے۔ کانگریس کے قومی صدر نے مزید کہا ہے کہ ’’اس سے قبل ہم ’حصہ داری نیائے‘، ’کسان نیائے‘ اور ’یووا نیائے‘ کا اعلان کر چکے ہیں اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہماری گارنٹی کھوکھلے وعدوں اور جملے نہیں ہوتے ہیں۔ ہمارا کہا پتھر کی لکییر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’1926 سے اب تک ہمارا یہ ریکارڈ ہے جب ہمارے مخالفین پیدا ہو رہے تھے تب سے ہم منشور بنا رہے ہیں اور ان اعلانات کو پورا کر رہے ہیں۔ آپ سب اپنا  تعاون  کانگریس پارٹی کو دیتے رہئے اور جمہوریت و آئین کے تحفظ کی اس لڑائی میں ہمارا ہاتھ مضبوط کیجئے۔‘‘

سی اے اے کے تحت سرکاری پیسے پر پاکستانیوں کو لاکر یہاں بسایا جائے گا: کیجریوال

مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کو نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون نافذ ہو گیا ہے۔ لیکن اس قانون کے نفاذ پر تمام اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی اس کے خلاف سخت بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ اس قانون کے تحت سرکاری پیسے پر پاکستانی لوگوں کو ہندوستان میں بسایا جائے گا۔ کیجریوال نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ’’پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں تقریباً 2.5 سے 3 کروڑ اقلیتیں رہتی ہیں۔ ایک بار جب ہندوستان اپنے دروازے کھول دے گا تو ان ممالک سے لوگ بڑے پیمانے پر ہندوستان آئیں گے۔ کیا ہم ان مہاجرین کو روزگار دیں گے؟ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ بینک کی سیاست کا حصہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’آخر یہ سی اے اے کیا ہے؟ مرکز کی بی جے پی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر تینوں ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی اقلیتیں ہندوستانی شہریت لینا چاہتی ہیں تو انہیں شہریت دی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان ممالک سے بڑی تعداد میں اقلیتوں کو ہمارے ملک میں لایا جائے گا۔ انہیں روزگار دیا جائے گا، ان کے لیے گھر بنائے جائیں گے، انہیں یہیں آباد کیا جائے گا۔‘‘

ہریانہ اسمبلی میں آج فلور ٹیسٹ، نائب سنگھ سینی نے کیا 48 ارکان اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ

ہریانہ کے نئے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے آج اسمبلی کا ایک روزہ خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ یہ ایک روزہ خصوصی اجلاس آج صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے۔ اس میں وہ اپنی حکومت کی اکثریت ثابت کریں گے۔ اس اجلاس میں اسمبلی کے نئے اسپیکر کا انتخاب بھی ہو سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت نائب سنگھ سینی حکومت کے پاس اکثریت ہے۔ ان کی حکومت کو 48 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے، جب کہ اکثریت کے لیے مطلوبہ تعداد 46 ہے۔ واضح رہے کہ منگل (13 مارچ) کو ہریانہ میں جے جے پی کے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دینے سے منوہر لال اور ان کی پوری کابینہ نے منگل کو ایک ساتھ استعفیٰ دے دیا تھا۔ استعفیٰ دینے کے بعد بی جے پی نے دوبارہ آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت سے حکومت بنائی۔ نائب سینی نے ہریانہ کے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیا اور ان کے ساتھ 5 ارکان اسمبلی نے بھی وزیر کے طور پر حلف لیا۔

انتخاب سے قبل پولرائزیشن کو بوسٹر ڈوز دینے کے لیے لایا گیا سی اے اے، جئے رام رمیش

کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے سی اے اے کے حوالے سے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں عوام کے ساتھ سخت ناانصافی ہوئی ہے۔ پی ایم مودی کے پاس اس الیکشن میں ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے پولرائزیشن۔ سی اے اے چار سال تین مہینے بعد لایا گیا ہے۔ اب جب الیکشن میں ایک مہینہ باقی ہے تو اس کا استعمال پولرائزیشن کو بوسٹر ڈوز دینے کے لیے کیا جائے گا۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ تمل ناڈو اور مغربی بنگال کی حکومتوں نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے (وہ اپنی اپنی ریاستوں میں سی اے اے کو نافذ نہیں کریں گے)۔ ہم بھی سی اے اے کے بھی خلاف تھے  کیونکہ اس کے ذریعے مذہب کی بنیاد پر شہریت دی جائے گی اور یہ بات آئین کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ انہیں (مودی حکومت کو)اسے لاگو کرنے میں چار سال تین ماہ کیوں لگے؟ وہ اس لیے کہ یہ اس کے ذریعے انتخابات سے قبل پولرائزیشن کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔