اہم خبریں LIVE: کسانوں کے ’دہلی چلو‘ مارچ کے پیش نظر دہلی کی سرحدوں پر سیکورٹی بڑھائی گئی
کسانوں کے ’دہلی چلو‘ مارچ کے پیش نظر دہلی کی سرحدوں پر سیکورٹی بڑھائی گئیکسان تنظیموں کے ذریعہ ’دہلی چلو‘ مارچ کو لے کر دہلی میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ خصوصاً دہلی کی سرحدوں پر پولیس مستعد ہے۔ غازی پور بارڈر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کسانوں کو روکنے کے لیے راستہ بلاک کیا گیا ہے اور ٹریفک کی چکنگ بھی سخت کر دی گئی ہے۔ اس وجہ سے ٹریفک جام کا نظارہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔#WATCH दिल्ली: किसान संगठनों द्वारा बुलाए गए 'दिल्ली चलो' विरोध मार्च के मद्देनजर दिल्ली की सीमाओं पर सुरक्षा बढ़ाई गई। (वीडियो ग़ाज़ीपुर बॉर्डर से है।) pic.twitter.com/L3x5QucZiY— ANI_HindiNews (@AHindinews) February 13, 2024 ہم پاکستان کی کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار: امریکہپاکستان میں عام انتخاب کے نتائج برآمد ہونے میں تاخیر کے بعد اب حکومت سازی کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ کسی بھی پارٹی کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہو پائی ہے اس لیے حکومت کس کی بنے گی، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔ اس درمیان امریکہ کی وزارت خارجہ نے واضح بیان دیا ہے کہ وہ پاکستان میں برسراقتدار ہونے والی کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ میں وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے میڈیا کو بتایا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان میں کوئی نئی حکومت بنی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب بھی اس پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔ لیکن ایک بات واضح کرتا ہوں کہ پاکستان کی عوام جسے بھی منتخب کرے گی، ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
کسانوں کے ’دہلی چلو‘ مارچ کے پیش نظر دہلی کی سرحدوں پر سیکورٹی بڑھائی گئی
کسان تنظیموں کے ذریعہ ’دہلی چلو‘ مارچ کو لے کر دہلی میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ خصوصاً دہلی کی سرحدوں پر پولیس مستعد ہے۔ غازی پور بارڈر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کسانوں کو روکنے کے لیے راستہ بلاک کیا گیا ہے اور ٹریفک کی چکنگ بھی سخت کر دی گئی ہے۔ اس وجہ سے ٹریفک جام کا نظارہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔
#WATCH दिल्ली: किसान संगठनों द्वारा बुलाए गए 'दिल्ली चलो' विरोध मार्च के मद्देनजर दिल्ली की सीमाओं पर सुरक्षा बढ़ाई गई।
— ANI_HindiNews (@AHindinews) February 13, 2024
(वीडियो ग़ाज़ीपुर बॉर्डर से है।) pic.twitter.com/L3x5QucZiY
ہم پاکستان کی کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار: امریکہ
پاکستان میں عام انتخاب کے نتائج برآمد ہونے میں تاخیر کے بعد اب حکومت سازی کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ کسی بھی پارٹی کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہو پائی ہے اس لیے حکومت کس کی بنے گی، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔ اس درمیان امریکہ کی وزارت خارجہ نے واضح بیان دیا ہے کہ وہ پاکستان میں برسراقتدار ہونے والی کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ میں وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے میڈیا کو بتایا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان میں کوئی نئی حکومت بنی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب بھی اس پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔ لیکن ایک بات واضح کرتا ہوں کہ پاکستان کی عوام جسے بھی منتخب کرے گی، ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘